صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
906. (673) باب استحباب الاستسقاء ببعض قرابة النبى صلى الله عليه وسلم بالبلدة التى يستسقي بها ببعض قرابته صلى الله عليه وسلم.
اس شہر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقارب کے ذریعے سے بارش طلب کرنا مستحب ہے، جس شہر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقارب کے ذریعے سے بارش طلب کی جاتی تھی
حدیث نمبر: 1421
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا قَحَطُوا خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالْعَبَّاسِ، فَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا إِذَا قَحَطْنَا اسْتَسْقَيْنَا بِنَبِيِّكَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَسْتَسْقِيكَ الْيَوْمَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ، أَوْ نَبِيِّنَا، فَاسْقِنَا، فَيُسْقَوْنَ" . قَالَ الأَنْصَارِيُّ: كَذَا وَجَدْتُ فِي كِتَابِي بِخَطِّي فَيُسْقَوْنَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (کے زمانہ میں) جب لوگ قحط سالی کا شکار ہوئے تو آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے بارش طلب کرتے۔ آپ دعا کرتے کہ اے اللہ، جب ہم قحط سالی میں مبتلا ہوتے تھے تو ہم تیرے نبی کے ذریعے سے بارش طلب کرتے تھے، تُو ہمیں بارش عطا کر دیتا تھا۔ آج ہم تیرے نبی کے چچا یا ہمارے نبی کے چچا کے ذریعے سے تجھ سے بارش طلب کرتے ہیں۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ) لوگوں کو بارش عطا کردی گئی۔ جناب محمد بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں اپنی لکھائی سے ”فَیُسْقَوْنَ“ کے لفظ ہی لکھے ہوئے دیکھے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الاستسقاء وما فيها من السنن/حدیث: 1421]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1010، 3710، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1421، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2861، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6520، والطبراني فى(الكبير) برقم: 84، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2437»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1421 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1421
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نیک و صالحین اور اہل بیت میں سے زندہ لوگوں سے دعا کرانا اور ان کے وسیلے سے بارش طلبی کی دعا کرانا اور انہیں سفارشی بنانا مستحب فعل ہے۔
➋ مردوں سے بارش طلبی کی سفارش کرانا اور مشکلات میں انہیں پکارنا اور ان سے فریاد طلبی کرنا حرام اور شرک ہے۔
لہذا اس قبیح گناہ سے اجتناب برتنا چاہیے۔
نیز زندہ صالحین سے دعا کرانے سے مقصود ان کے تقرب و تقویٰ کی وجہ سے دعا کی قبولیت کے مواقع زیادہ ہیں۔
یہ مقصود نہیں کہ وہ کسی مشکل سے از خود نجات دلاتے ہیں۔
بلکہ نجات دہندہ فقط اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نیک و صالحین اور اہل بیت میں سے زندہ لوگوں سے دعا کرانا اور ان کے وسیلے سے بارش طلبی کی دعا کرانا اور انہیں سفارشی بنانا مستحب فعل ہے۔
➋ مردوں سے بارش طلبی کی سفارش کرانا اور مشکلات میں انہیں پکارنا اور ان سے فریاد طلبی کرنا حرام اور شرک ہے۔
لہذا اس قبیح گناہ سے اجتناب برتنا چاہیے۔
نیز زندہ صالحین سے دعا کرانے سے مقصود ان کے تقرب و تقویٰ کی وجہ سے دعا کی قبولیت کے مواقع زیادہ ہیں۔
یہ مقصود نہیں کہ وہ کسی مشکل سے از خود نجات دلاتے ہیں۔
بلکہ نجات دہندہ فقط اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1421]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1421 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي