🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
953. (2) باب ذكر الدليل على ضد قول من زعم أن النبى صلى الله عليه وسلم لا يخاطب أمته بلفظ مجمل،
اس شخص کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جو کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمّت کو مجمل الفاظ میں خطاب نہیں فرماتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1472
مَوَّهَ بِجَهْلِهِ عَلَى بَعْضِ الْغَبَاءِ، احْتِجَاجًا لِمَقَالَتِهِ هَذِهِ أَنَّهُ إِذَا خَاطَبَهُمْ بِكَلَامٍ مُجْمَلٍ فَقَدْ خَاطَبَهُمْ بِمَا لَمْ يُفِدْهُمْ مَعْنًى، زَعَمَ
اس نے اپنے اس قول کے ذریعے سے بعض بیوقوف لوگوں پر اپنی جہالت کے ساتھ حق کو چھپا دیا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمّت کو مجمل کلام کے ساتھ خطاب کریں گے تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بے فائدہ خطاب کیا، یہ اس شخص کا گمان و خیال ہے [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: Q1472]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1472
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمِيعِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاتِهِ وَحْدَهُ بِبِضْعٍ وَعِشْرِينَ صَلاةً" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِضْعٍ" كَلِمَةٌ مُجْمَلَةٌ إِذِ الْبِضْعُ يَقَعُ عَلَى مَا بَيْنَ الثَّلاثِ إِلَى الْعَشْرِ مِنَ الْعَدَدِ، وَبَيَّنَ عَلَيْهِ السَّلامُ فِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهَا تَفْضُلُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ، وَلَمْ يَقُلْ: لا تَفْضُلُ إِلا بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ، وَأَعْلَمَ فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهَا تَفْضُلُ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً
سیدنا ابوہریرہ ہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی اُس کے لئے اکیلے نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجے افضل ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ لفظ بضع مجمل ہے۔ کیونکہ بضع کا اطلاق تین سے لیکر دس تک کے عدد پر ہوتا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں بیان فرمایا کہ نماز باجماعت پچیس گنا افضل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ پچیس گنا سے زیادہ افضل نہیں ہوسکتی - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں بتایا کہ نماز باجماعت ستائیس درجے افضل ہوتی ہے ـ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1472]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 477، 648، 4717، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 649، ومالك فى (الموطأ) برقم: 426، وابن الجارود فى "المنتقى"، 332، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1472، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2043، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 485، وأبو داود فى (سننه) برقم: 559، والترمذي فى (جامعه) برقم: 216، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1312، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 786، 787، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1711، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7306»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← سعيد بن المسيب القرشي
ثقة متقن
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1472 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1472
فوائد:
بظاہر یہ احادیث باہم متعارض معلوم ہوتی ہیں کہ بعض روایات میں نمازِ باجماعت پچیس درجے اور بعض میں ستائیس درجے زیادہ ثواب کا بیان ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان متعارض احادیث میں تطبیق کی تین صورتیں ہیں:
➊ ان احادیث میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ عددِ قلیل کا ذکر عددِ کثیر کی نفی نہیں کرتا۔ (کہ پچیس کا عدد ستائیس میں شامل ہے) اور جمہور اصولین کے نزدیک ایک عدد کے مفہوم کا تعین باطل ہے۔
➋ ممکن ہے کہ اولاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قلیل عدد (یعنی پچیس گنا زیادہ ثواب) بیان کیا ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید فضیلت سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فضیلت بیان کردی۔
➌ نمازیوں اور نماز کے اعمال کے مختلف ہونے سے مختلف ثواب ملتا ہے، سو بعض نماز کو پچیس گنا اور بعض کو ستائیس درجہ زیادہ ثواب ملتا ہے، یہ نماز کی ہیئت، خشوع، نمازیوں کی کثرت اور فضیلت و عظمت کی بدولت ہوتا ہے۔ ** [شرح النووي: 150/5] **
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1472]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1472 in Urdu