صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
969. (18) باب ذكر كتبة الحسنات بالمشي إلى الصلاة
نماز کی طرف چل کر جانے سے نیکیوں کے لکھے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1492
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ، ثُمَّ مَرَّ إِلَى الْمَسْجِدِ يَرْعَى الصَّلاةَ، كَتَبَ لَهُ كَاتِبُهُ، أَوْ كَاتِبَاهُ، بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ يَرْعَى لِلصَّلاةِ كَالْقَانِتِ، وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ، مِنْ حَيْثُ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ"
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی وضو کرکے نماز کا اہتمام کرتے ہوئے مسجد کی طرف جاتا ہے تو اُس کی نیکیاں لکھنے والا کاتب اُس کے مسجد کی طرف بڑھنے والے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ اور بیٹھ کر نماز کا انتظار اور اہتمام کرنے والا شخص خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت کرنے والے کی طرح ہے۔ اُسے گھر سے نکلنے کے وقت سے لیکر واپس لوٹنے تک نمازیوں میں لکھا جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1492]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1492، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2038، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 771، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5053، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17712»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1492 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1492
فوائد:
➊ باوضو ہو کر نماز کے لیے مسجد جانے والے کو ہر قدم پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔
➋ نماز کے انتظار میں بیٹھنے والے کو قیامِ نماز کے برابر اجر ملتا ہے، لہٰذا نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا اجر و ثواب کا باعث ہے۔
➌ نماز کے لیے مسجد میں جانے والا نماز ہی میں رہتا ہے اور اسے نماز کے برابر ثواب ملتا ہے، جب تک وہ مسجد میں رہے اور واپس گھر کا رخ نہ کرے۔
➊ باوضو ہو کر نماز کے لیے مسجد جانے والے کو ہر قدم پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔
➋ نماز کے انتظار میں بیٹھنے والے کو قیامِ نماز کے برابر اجر ملتا ہے، لہٰذا نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا اجر و ثواب کا باعث ہے۔
➌ نماز کے لیے مسجد میں جانے والا نماز ہی میں رہتا ہے اور اسے نماز کے برابر ثواب ملتا ہے، جب تک وہ مسجد میں رہے اور واپس گھر کا رخ نہ کرے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1492]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1492 in Urdu
حي بن يؤمن المعافري ← عقبة بن عامر الجهني