🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1015. (64) باب ذكر صلاة الرب، وملائكته على واصل الصفوف.
صفوں کو ملانے والوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور فرشتوں کی بخشش کی دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1550
نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کو ملانے والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اُس کے فرشتے اُن کے لئے مغفرت و بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1550، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2160، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 780، وأبو داود فى (سننه) برقم: 676، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 995، 1005، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5268، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25019»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥عثمان بن عروة الأسدي
Newعثمان بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥أسامة بن زيد الليثي، أبو زيد
Newأسامة بن زيد الليثي ← عثمان بن عروة الأسدي
صدوق يهم كثيرا
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← أسامة بن زيد الليثي
ثقة حافظ
👤←👥الربيع بن سليمان المرادي، أبو محمد
Newالربيع بن سليمان المرادي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1550 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1550
فوائد:
➊ ان احادیث میں صفوں کو ملانے کی تاکید ہے اور صف بندی اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کا طرز عمل ہے۔ لہٰذا صف بندی کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔
➋ صفوں میں کجی اور بے ترتیبی انتہائی مبغوض عمل ہے اور اس پر سخت وعید وارد ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اختلاف پیدا کر دیتے ہیں اور ان سے وحدت و اتحاد ختم کر دیتے ہیں۔ لہٰذا باہمی اتحاد و یگانگت کے لیے صف بندی کا اہتمام جزوِ لاینفک ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1550]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1550 in Urdu