صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1016. (65) باب التغليظ فى ترك تسوية الصفوف تخوفا لمخالفة الرب- عز وجل- بين القلوب.
صفوں کو برابر نہ کرنے کے بارے میں سختی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور سزا دلوں میں اختلاف ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 1552
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمَذَانِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فَيَمْسَحُ عَلَى عَوَاتِقَنَا وَصُدُورِنَا، وَيَقُولُ: " لا تَخْتَلِفْ صُفُوفُكُمْ، فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الأَوَّلِ" ، أَوِ" الصُّفُوفِ الأُوَلِ"
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (صف بندی کے وقت) ہمارے پاس تشریف لاتے۔ آپ ہمارے کندھوں اور سینوں کو اپنے دست مبارک سے درست کرتے اور فرماتے: ”تمہاری صفیں ٹیڑھی نہیں ہونی چاہیئں وگرنہ تمہارے دل بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف یا پہلی صفوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن عوسجة الهمداني ← البراء بن عازب الأنصاري