صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1032. (81) باب الرخصة فى شق أولي الأحلام، والنهى للصفوف إذا كانوا قد اصطفوا عند حضورهم ليقوموا فى الصف الأول.
اہل دانش اور عقل و تمیز والے اشخاص کو صفوں کو چیر کر پہلی میں کھڑے ہونا جائز ہے جبکہ لوگ اُن کے آنے پر صفیں بناچکے ہوں
حدیث نمبر: 1574
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ مُحَمَّدٌ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ النَّاسَ، وَأَنْ يَؤُمَّهُمْ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ" . ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَهَذَا اللَّفْظُ الَّذِي ذَكَرَهُ لَفْظُ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے۔ (آپ کی عدم موجودگی میں نماز کا وقت ہو گیا تو مؤذن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آیا اور اُن سے لوگوں کی امامت کرنے کی درخواست کی۔ اُنہوں نے نماز شروع کر دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے۔ آپ صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے حتّیٰ کہ اگلی صف میں کھڑے ہو گئے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ یہ الفاظ جناب اسماعیل کی روایت کے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1574]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 684، 1201، 1204، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 421، ومالك فى (الموطأ) برقم: 565، وابن الجارود فى "المنتقى"، 234، 341، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 853، 854، 1517، 1574، 1623، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2260، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4485، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 783، وأبو داود فى (سننه) برقم: 940، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1035، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3380،، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23264، والحميدي فى (مسنده) برقم: 956»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1574 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1574
فوائد:
➊ امام کے قریب سمجھ دار اور عالم فاضل لوگوں کا کھڑے ہونا مستحب ہے اور انہیں تاکید ہے کہ یہ مسجد میں جلد پہنچ کر امام کے قریب جگہ حاصل کریں۔
➋ ◈ امام شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ان احادیث میں وضاحت ہے کہ اہل علم و فضل کا اگلی صف میں کھڑے ہونا مشروع ہے، تاکہ وہ امام سے طریقہ نماز سیکھیں اور ان سے دیگر لوگ نماز سیکھیں کیونکہ اہل علم و فضل طریقہ نماز اور اس کی تبلیغ سے بہتر عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ [نیل الأوطار: 160/5]
➌ اگر جماعت کے قیام سے قبل کوئی بزرگ عالم و فاضل آ جائے تو وہ امام کے قریب سے کم عمر افراد کو پیچھے کر کے خود کھڑا ہو سکتا ہے۔
➊ امام کے قریب سمجھ دار اور عالم فاضل لوگوں کا کھڑے ہونا مستحب ہے اور انہیں تاکید ہے کہ یہ مسجد میں جلد پہنچ کر امام کے قریب جگہ حاصل کریں۔
➋ ◈ امام شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ان احادیث میں وضاحت ہے کہ اہل علم و فضل کا اگلی صف میں کھڑے ہونا مشروع ہے، تاکہ وہ امام سے طریقہ نماز سیکھیں اور ان سے دیگر لوگ نماز سیکھیں کیونکہ اہل علم و فضل طریقہ نماز اور اس کی تبلیغ سے بہتر عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ [نیل الأوطار: 160/5]
➌ اگر جماعت کے قیام سے قبل کوئی بزرگ عالم و فاضل آ جائے تو وہ امام کے قریب سے کم عمر افراد کو پیچھے کر کے خود کھڑا ہو سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1574]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1574 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي