صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. ( 126) باب التغليظ فى ترك غسل بطون الأقدام فى الوضوء،
وضو میں قدموں کے نچلے حصّے کو نہ دھونے پر وعید و عذاب کا بیان
حدیث نمبر: Q163
وَفِيهِ أَيْضًا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمَاسِحَ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمَيْنِ غَيْرُ مُؤَدٍّ لِلْفَرْضِ، لَا كَمَا زَعَمَتِ الرَّوَافِضُ أَنَّ الْفَرْضَ مَسْحُ ظُهُورِهِمَا لَا غَسْلُ جَمِيعِ الْقَدَمَيْنِ.
اس میں بھی دلیل ہے کہ قدموں کے بالائی حصّے پرمسح کرنے والا فرض ادا نہیں کرتا، رافضیوں کے خیال کے برعکس جو یہ کہتے ہیں کہ پورے قدموں کو دھونا فرض نہیں ہے بلکہ اُن کے اوپر والے حصّے پر مسح کرنا فرض ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: Q163]
حدیث نمبر: 163
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ حَيْوَةَ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ وَبُطُونِ الأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ"
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزءِ زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ نے فرمایا: ”(خشک رہ جانے والی) ایڑیوں اور تلوں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 163، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 201، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 584، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 326، والدارقطني فى (سننه) برقم: 316، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17982، 17983، 17987، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 195، 196»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 163 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 163
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ وضو میں پاؤں دھونا فرض ہے (فقط پاؤں کا مسح نا کافی ہے) اور جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس مسئلہ کے بارے میں علماء کے کئی مذاہب ہیں؛ تمام فقہائے کرام اور مفتیان عظام کا موقف ہے کہ وضو میں دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا واجب ہے اور ان کا مسح نا کافی ہے، اور نہ ہی دھونے سمیت پاؤں کا مسح واجب ہے اور اس مجمع علیہ مسئلہ میں کسی کا خاص اختلاف بھی ثابت نہیں ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ** [فتح الباري] ** میں رقمطراز ہیں کہ علی، ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم کے سوا کسی صحابی کا اس مسئلہ میں اختلاف نہیں، پھر ان صحابہ نے بھی اپنے موقف سے رجوع کر لیا تھا۔
◈ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کا قول ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ وضو میں دونوں پاؤں کو دھونا واجب ہے۔ [نیل الأوطار: 184/1]
➋ وضو میں پاؤں کا کوئی حصہ خشک نہیں رہنا چاہیے، بلکہ پاؤں کے وہ حصے جہاں پانی پہنچانا مشکل ہو اور ان کے خشک رہنے کا خدشہ ہو انہیں خاص توجہ سے دھونا چاہیے کیونکہ پاؤں کا معمولی حصہ خشک رہنے سے وضو نہیں ہوتا۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ وضو میں پاؤں دھونا فرض ہے (فقط پاؤں کا مسح نا کافی ہے) اور جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس مسئلہ کے بارے میں علماء کے کئی مذاہب ہیں؛ تمام فقہائے کرام اور مفتیان عظام کا موقف ہے کہ وضو میں دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا واجب ہے اور ان کا مسح نا کافی ہے، اور نہ ہی دھونے سمیت پاؤں کا مسح واجب ہے اور اس مجمع علیہ مسئلہ میں کسی کا خاص اختلاف بھی ثابت نہیں ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ** [فتح الباري] ** میں رقمطراز ہیں کہ علی، ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم کے سوا کسی صحابی کا اس مسئلہ میں اختلاف نہیں، پھر ان صحابہ نے بھی اپنے موقف سے رجوع کر لیا تھا۔
◈ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کا قول ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ وضو میں دونوں پاؤں کو دھونا واجب ہے۔ [نیل الأوطار: 184/1]
➋ وضو میں پاؤں کا کوئی حصہ خشک نہیں رہنا چاہیے، بلکہ پاؤں کے وہ حصے جہاں پانی پہنچانا مشکل ہو اور ان کے خشک رہنے کا خدشہ ہو انہیں خاص توجہ سے دھونا چاہیے کیونکہ پاؤں کا معمولی حصہ خشک رہنے سے وضو نہیں ہوتا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 163]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 163 in Urdu
عقبة بن مسلم التجيبي ← عبد الله بن الحارث الزبيدي