🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. ‏(‏ 128‏)‏ باب ذكر البيان أن الله- عز وجل وعلا- أمر بغسل القدمين فى قوله‏:‏ ‏[‏وأرجلكم إلى الكعبين‏)‏ الآية، لا بمسحهما على ما زعمت الروافض، والخوارج،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ عزوجل نے اپنے فرمان: ﴿وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ﴾ ”پاؤں ٹخنوں سمیت“ میں رافضیوں اور خارجیوں کے دعوے کے برعکس قدموں کو دھونے کا حکم دیا ہے مسح کرنے کا نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q165
وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ تأَوْيلِ الْمُطَّلِبِيِّ- رَحِمَهُ اللَّهُ- أَنَّ مَعْنَى الْآيَةِ عَلَى التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ عَلَى مَعْنَى‏:‏ اغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ، فَقَدَّمَ ذِكْرَ الْمَسْحِ عَلَى ذِكْرِ الرِّجْلَيْنِ، كَمَا قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ‏:‏ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ قَالُوا‏:‏ رَجَعَ الْأَمْرُ إِلَى الْغَسْلِ‏.‏
اور علامہ مطلبی رحمہ اللہ کی تفسیر کے صحیح ہونے کی دلیل کا بیان کہ آیت کے معنی تقدیم و تاخیر ہے یعنی «‏‏‏‏فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ» ‏‏‏‏ [ سورة المائدة ] اپنے چہروں، اپنے ہاتھوں اور اپنے قدموں کو دھولو اور اپنے سروں کا مسح کرو۔ یعنی آیت میں مسح کا ذکر پاؤں کے ذکر سے پہلے کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا ابن مسعود، ابن عباس اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نے فرمایا ہے کہ «‏‏‏‏وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ» ‏‏‏‏ اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت میں حُکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: Q165]
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 165
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَبُو الْوَلِيدِ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، نا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : نا عَمْرُو بْنُ عَنْبَسَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي صِفَةِ إِسْلامِهِ، وَقَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:" ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، كَمَا أَمْرَهُ اللَّهُ، إِلا خَرَجَتْ خَطَايَا قَدَمَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ"
حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام لانے کی کیفیت کے بارے میں طویل حدیث بیان کی، اور کہا کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، مجھے وضو کے متعلق ارشاد فرمایئے۔ پھر طویل حدیث بیان کی، اور کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) پھر (وضو کرنے والا) اللہ تعالی کے حکم کے مطابق اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوتا ہے تو اُس کے قدموں کے گناہ اُس کی اُنگلیوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 832، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 165، 260، 1147، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 453، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 147، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1277، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3579، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 283، 1251، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 382، والدارقطني فى (سننه) برقم: 378، 379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17288»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن عبسة السلمي، أبو نجيحصحابي
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامة
Newصدي بن عجلان الباهلي ← عمرو بن عبسة السلمي
صحابي
👤←👥شداد بن عبد الله القرشي، أبو عمار
Newشداد بن عبد الله القرشي ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← شداد بن عبد الله القرشي
صدوق يغلط
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← هشام بن عبد الملك الباهلي
ثقة حافظ جليل
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 165 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 165
فوائد:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکمِ الٰہی (وضو میں پاؤں دھونا) کی تعمیل میں پاؤں دھونا اس بات کی دلیل ہے کہ آیتِ وضو میں پاؤں دھونے کا حکم ہے۔
➋ چنانچہ روافض و خوارج کا اس حکم میں تحریف کرنا اور اس سے یہ مفہوم کشید کرنا کہ آیتِ وضو میں پاؤں کا مسح کرنے کا حکم ہے، کتاب و سنت کے صریح خلاف ہے۔
➌ لہٰذا کتاب و سنت کے صریح نصوص کے سامنے عقل اور ذاتی اجتہاد عین جہالت ہے، بلکہ کتاب و سنت کے صریح دلائل کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اچھے مسلمان کی پہچان ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 165]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 165 in Urdu