صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1122. (171) باب الأمر بخروج النساء إلى المساجد تفلات.
عورتوں کو مساجد میں سادگی کے ساتھ جانے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 1679
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلْيَخْرُجْنَ إِذَا خَرَجْنَ تَفِلاتٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں (میں حاضر ہونے) سے نہ روکو۔ اور اُنہیں چاہیے کہ جب وہ (مساجد کی طرف) نکلیں تو سادگی کے ساتھ (بغیر زیب و زینت کے) نکلیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1679]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 366، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1679، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2214، وأبو داود فى (سننه) برقم: 565، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5460، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9776، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1008»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1679 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1679
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ گھر کے نگران کے لیے جائز نہیں کہ عورتوں کو مساجد میں جانے اور مساجد میں جا کر نماز پڑھنے سے روکے۔ البتہ مساجد میں داخل ہونے کے لیے عورتوں پر کچھ حقوق لازم ہیں، جن کی پابندی کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر عورتوں کو مساجد سے روکا جا سکتا ہے۔ مستورات مساجد میں حاضری کے وقت درج ذیل امور کا لحاظ رکھیں:
➊ خوشبو اور عطریات کا استعمال نہ کریں۔
➋ باپردہ ہو کر نکلیں۔
➌ شوخ بھڑکیلا لباس نہ پہنیں، جو فتنہ کا سبب ہو۔
➍ پازیبوں کی جھنکار ظاہر نہ کریں اور بناؤ سنگھار کا اہتمام نہ کریں۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ گھر کے نگران کے لیے جائز نہیں کہ عورتوں کو مساجد میں جانے اور مساجد میں جا کر نماز پڑھنے سے روکے۔ البتہ مساجد میں داخل ہونے کے لیے عورتوں پر کچھ حقوق لازم ہیں، جن کی پابندی کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر عورتوں کو مساجد سے روکا جا سکتا ہے۔ مستورات مساجد میں حاضری کے وقت درج ذیل امور کا لحاظ رکھیں:
➊ خوشبو اور عطریات کا استعمال نہ کریں۔
➋ باپردہ ہو کر نکلیں۔
➌ شوخ بھڑکیلا لباس نہ پہنیں، جو فتنہ کا سبب ہو۔
➍ پازیبوں کی جھنکار ظاہر نہ کریں اور بناؤ سنگھار کا اہتمام نہ کریں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1679]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1679 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي