صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1127. (176) باب اختيار صلاة المرأة فى بيتها على صلاتها فى حجرتها، إن كان قتادة سمع هذا الخبر من مورق.
عورت کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا اپنے حجرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ اگر قتادہ نے یہ روایت مورق سے سنی ہو
حدیث نمبر: 1688
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَعْظَمُ مِنْ صَلاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کی اپنے اندرونی کمرے میں نماز زیادہ اجر و ثواب والی ہے، اُس کی اپنے حجرے (بیرونی کمرے، برآمدے) میں پڑھی گئی نمازسے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1685، 1686، 1687، 1688، 1690، 1691، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5598، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 762، وأبو داود فى (سننه) برقم: 570، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5444، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7696»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1688 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1688
فوائد:
➊ عورتوں کا مساجد کے بجائے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ اور گھر میں وہ جتنی باپردہ اور محفوظ جگہ پر نماز پڑھیں گی، اتنا اجر و ثواب زیادہ ہے۔
➋ عورت کا گھر میں رہنا اس کی عزت و ناموس کے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ عورت پردہ دار چیز ہے اور اس کے باہر نکلنے سے فتنہ و فساد برپا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے نماز کے لیے بھی مسجد میں نہ جانا افضل ہے اور دیگر کاموں کے لیے نکلنے سے تو بلا ضرورت احتراز کرنا چاہیے۔
➌ عورتوں کے لیے حصولِ رضائے الٰہی کا بہترین ذریعہ گھر کے محفوظ حصے میں رہنا ہے۔
➊ عورتوں کا مساجد کے بجائے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ اور گھر میں وہ جتنی باپردہ اور محفوظ جگہ پر نماز پڑھیں گی، اتنا اجر و ثواب زیادہ ہے۔
➋ عورت کا گھر میں رہنا اس کی عزت و ناموس کے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ عورت پردہ دار چیز ہے اور اس کے باہر نکلنے سے فتنہ و فساد برپا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے نماز کے لیے بھی مسجد میں نہ جانا افضل ہے اور دیگر کاموں کے لیے نکلنے سے تو بلا ضرورت احتراز کرنا چاہیے۔
➌ عورتوں کے لیے حصولِ رضائے الٰہی کا بہترین ذریعہ گھر کے محفوظ حصے میں رہنا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1688]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1688 in Urdu
عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود