صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1142. (191) باب رفع الصوت بالتكبير والذكر عند قضاء الإمام الصلاة.
امام کے نماز ختم کرنے پر اللہ اَکُبَر،، اور ذکر الہٰی بلند آواز سے کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1707
نا الْحَسَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يُنْصَرَفُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرض نماز سے فارغ ہونے پر بلند آواز سے ذکر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں موجود تھا ـ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ نماز سے فارغ ہو کر بلند آواز سے ذکر کرتے تو میں اس سے (نماز کی تکمیل اور اختتام کو) پہچان لیتا ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1707]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 841، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 583، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1707، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1003، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3547، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 3225، والطبراني فى(الكبير) برقم: 12212»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1707 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1707
فوائد:
➊ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد با آواز بلند تکبیر کہنا مستحب فعل ہے۔
➋ عذر کی وجہ سے بچوں کا بعض اوقات نماز با جماعت میں شامل نہ ہونا قابل مواخذہ نہیں۔
➊ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد با آواز بلند تکبیر کہنا مستحب فعل ہے۔
➋ عذر کی وجہ سے بچوں کا بعض اوقات نماز با جماعت میں شامل نہ ہونا قابل مواخذہ نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1707]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1707 in Urdu
نافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي