صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
139. ( 138) باب ذكر تكفير الخطايا، والزيادة فى الحسنات بإسباغ الوضوء على المكاره.
تکلیف اور مشقت کے باوجود مکمل وضو کرنا گناہوں کی بخشش اور نیکوں میں اضافے کا باعث ہے
حدیث نمبر: 177
نا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ فِيهِ الْحَسَنَاتِ"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَانْتِظَارُ الصَّلاةِ بَعْدَ الصَّلاةِ" ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ غَيْرُ أَبِي عَاصِمٍ، فَإِنْ كَانَ أَبُو عَاصِمٍ قَدْ حَفِظَهُ، فَهَذَا إِسْنَادٌ غَرِيبٌ، وَهَذَا خَبَرٌ طَوِيلٌ قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي أَبْوَابٍ ذَوَاتِ عَدَدٍ، وَالْمَشْهُورُ فِي هَذَا الْمَتْنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، لا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ. ح نا أبو مُوسَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ أَبُو مُوسَى: نا، وَقَالَ أَحْمَدُ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالٰی گناہ معاف کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے صحابہ نے عرض کی کہ کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول، (ضرور بتائیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تکلیف اور مشقّت کے باوجود پورا وضو کرنا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔“ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو امام سفیان سے ابو عاصم کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا، اگرچہ ابو عاصم نے اس کو حفظ کیا ہے مگر یہ سند غریب ہے، اور یہ طویل روایت ہے جس کو میں نے متعدد ابواب میں بیان کیا ہے۔ اس متن (کی سند) میں مشہور اس طرح ہے کہ عبد اللہ بن محمد عقیل، سعید بن مسَیب سے اور وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ سے بیان نہیں کرتے، امام صاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں ابو موسیٰ اور احمد بن عبدہ نے روایت بیان کی تو ابو موسیٰ نے کہا «حدثنا ابو عامِر» ، اور احمد نے کہا «اخبرنا ابو عامر» اور ابو عامِر، زھیر بن محمد سے اور وہ عبداللہ بن محمد بن عقیل سے روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 177، 357، 1562، 1577، 1693، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 402، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 694، 784، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2300، 2301، 3249، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1102»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 177 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 177
فوائد:
سخت سردی میں وضو، پانی کی طلب میں مشقت اٹھانے اور زخموں پر وضو کا پانی پہنچنے کی وجہ سے تکلیف اٹھانے کی صورت میں اچھے طریقے سے وضو کرنا اور اعضائے وضو کو مکمل اور بہتر طریقے سے دھونا افضل عمل ہے۔
اور یہ عمل درجات کی بلندی اور گناہوں کو دھو ڈالنے کا باعث ہے۔
لہذا وضو میں یہ چیز ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
سخت سردی میں وضو، پانی کی طلب میں مشقت اٹھانے اور زخموں پر وضو کا پانی پہنچنے کی وجہ سے تکلیف اٹھانے کی صورت میں اچھے طریقے سے وضو کرنا اور اعضائے وضو کو مکمل اور بہتر طریقے سے دھونا افضل عمل ہے۔
اور یہ عمل درجات کی بلندی اور گناہوں کو دھو ڈالنے کا باعث ہے۔
لہذا وضو میں یہ چیز ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 177]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 177 in Urdu
زهير بن محمد التميمي ← عبد الله بن عقيل الهاشمي