صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
خطبے کے لئے خاموش رہنے اور غور سے سُننے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1803
نا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فَاغْتَسَلَ الرَّجُلُ , وَغَسَلَ رَأْسَهُ , ثُمَّ تَطَيَّبَ مِنْ أَطْيَبِ طِيبِهِ , وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ , ثُمَّ اسْتَمَعَ لِلإِمَامِ، غُفِرَ لَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ , وَزِيَادَةُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن ہو تو آدمی غسل کرے اور اپنا سر دھوئے پھر اپنی بہترین خوشبو لگائے اور اپنا عمدہ لباس پہنے پھر نماز پڑھنے کے لئے جائے اور دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہ ڈالے، پھر امام کی بات غور سے سُنے تو اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہ اور مزید تین دن کے اُس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1803]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 857، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1756، 1762، 1803، 1818، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1231، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1049، وأبو داود فى (سننه) برقم: 343، والترمذي فى (جامعه) برقم: 498، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1025، 1090، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5765، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9615»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1803 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1803
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ دوران خطبہ جمعہ خاموشی اختیار کرنا اور خطبہ جمعہ غور سے سننا باعث اجر و ثواب ہے۔
➋ جمہور علماء کا موقف ہے کہ دوران خطبہ جمعہ خاموش رہنا واجب ہے اور اس دوران گفتگو کرنا حرام ہے۔ خواہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ہی در پیش ہو۔ [فقه السنة: 296/1]
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ دوران خطبہ جمعہ خاموشی اختیار کرنا اور خطبہ جمعہ غور سے سننا باعث اجر و ثواب ہے۔
➋ جمہور علماء کا موقف ہے کہ دوران خطبہ جمعہ خاموش رہنا واجب ہے اور اس دوران گفتگو کرنا حرام ہے۔ خواہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ہی در پیش ہو۔ [فقه السنة: 296/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1803]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1803 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي