صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جمعہ والے دن اونگھنے والے شخص کے لئے اپنی جگہ تبدیل کرنا مستحب ہے۔ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ اونگھ کا حُکم نیند والا نہیں ہے اور نہ ہی اس سے وضو واجب ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1819
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، جميعا، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَيْضًا , حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَجْلِسِهِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ" . هَذَا حَدِيثُ الأَشَجِّ. وَفِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو جمعہ والے دن اپنی جگہ پر اُونگھ آجائے تو وہ اپنی وہ جگہ تبدیل کر لے۔“ یہ جناب اشج کی روایت ہے۔ اور یزید بن ہارون کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1819، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2792، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1079، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1119، والترمذي فى (جامعه) برقم: 526، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6006، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4832»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1819 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1819
فوائد:
اگر جمعہ میں دورانِ خطبہ نیند آئے تو وہ جگہ تبدیل کر لینی چاہیے، اس میں کچھ مضائقہ نہیں اور جگہ تبدیل کر لینے میں حکمت یہ ہے کہ اس عمل سے نیند کا غلبہ ختم ہو جاتا ہے اور خطبہ جمعہ، جس کا مقصود وعظ و ارشاد ہے، سامع مستفید ہو سکتا ہے۔
اگر جمعہ میں دورانِ خطبہ نیند آئے تو وہ جگہ تبدیل کر لینی چاہیے، اس میں کچھ مضائقہ نہیں اور جگہ تبدیل کر لینے میں حکمت یہ ہے کہ اس عمل سے نیند کا غلبہ ختم ہو جاتا ہے اور خطبہ جمعہ، جس کا مقصود وعظ و ارشاد ہے، سامع مستفید ہو سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1819]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1819 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي