صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
امام کا خطبے کے دوران میں دو رکعت ادا کیے بغیر بیٹھنے والے کو حُکم دینا کہ وہ اُٹھ کر دو رکعت کرے
یہ ایک اختیاری اور مستحب حُکم ہے۔ اور یہ دو رکعت مختصر اور ہلکی ادا کرنے کا بیان۔ اور ان لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جو کہتے ہیں کہ حُکم سلیک غطفانی کے ساتھ خاص تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: Q1835]
حدیث نمبر: 1835
نا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ , فَجَلَسَ , فَقَالَ لَهُ:" يَا سُلَيْكُ , قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا". ثُمَّ قَالَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ , وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بَعْدَ فَرَاغِ سُلَيْكٍ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ بِهَذَا الأَمْرِ كُلَّ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ. وَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ يَتَأَوَّلَ عَالِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا خَصَّ بِهَذَا الأَمْرِ سُلَيْكًا الْغَطَفَانِيَّ إِذْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ رَثَّ الْهَيْئَةِ وَقْتَ خُطْبَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِلَفْظٍ عَامٍّ مَنْ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، بَعْدَ فَرَاغِ سُلَيْكٍ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ. وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَاوِي الْخَبَرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ أَنْ لا يَتْرُكَهُمَا بَعْدَ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا , فَمَنِ ادَّعَى أَنَّ هَذَا كَانَ خَاصًّا لِسُلَيْكٍ، أَوْ لِلدَّاخِلِ وَهُوَ رَثُّ الْهَيْئَةِ وَقْتَ خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ خَالَفَ أَخْبَارَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَنْصُوصَةَ ؛ لأَنَّ قَوْلَهُ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ" مُحَالٌ أَنْ يُرِيدَ بِهِ دَاخِلا وَاحِدًا دُونَ غَيْرِهِ ؛ لأَنَّ هَذِهِ اللَّفْظَةَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ" عِنْدَ الْعَرَبِ يَسْتَحِيلُ أَنْ تَقَعَ عَلَى وَاحِدٍ دُونَ الْجَمْعِ. وَقَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذِهِ الأَخْبَارِ فِي كِتَابِ الْجُمُعَةِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن آئے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فر ما رہے تھے تو وہ بیٹھ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ”اے سلیک کھٹرے ہوکر دو رکعات پڑھو اور ان کو مختصر اور ہلکی پڑھنا -“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اس حال میں مسجد میں جمعہ کے دن آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اُسے دو رکعات پڑھ لے اور انہیں مختصر اور ہلکی ادا کرے ـ“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلیک رضی اللہ عنہ کے دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حُکم دیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے لئے آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اُسے دو رکعا ت پڑھنی چاہئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حُکم قیامت تک کے لئے ہر مسلمان شخص کو دیا ہے جو اس حال میں مسجد میں داخل ہوتا ہے کہ امام خطب دے رہا ہو۔ لہٰذا یہ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ کوئی عالم دین اس حدیث کی یہ تاویل کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حُکم خصوصاً سیدنا سلیک رضی اللہ عنہ کو دیا تھا جبکہ وہ پھٹے پرانے کپڑوں میں مسجد میں داخل ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ـ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حُکم عام الفاظ کے ساتھ دیا ہے۔ جو شخص بھی مسجد میں داخل ہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اُسے دو رکعات ادا کرنی چاہئیں ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حُکم سیدنا سلیک رضی اللہ عنہ کے دو رکعات سے فارغ ہونے پر دیا تھا ـ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اس حدیث کے راوی قسم اُٹھاتے تھے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کے بعد یہ دو رکعات کبھی ترک نہیں کریںگے۔ لہٰذا جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ حُکم سیدنا سلیک رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا یا اُس شخص کے لئے تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کے دوران شکستہ حالت میں مسجد میں داخل ہوا تھا تو اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص فرامین کی خلاف ورزی کی ہے۔ کیونکہ آپ کے فرمان ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اس وقت آئے جب امام خطبہ دے رہا ہو تو اُسے دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے“ سے صرف ایک مخصوص شخص مسجد میں داخل ہونے ولا مراد لینا محال و ناممکن ہے کیونکہ یہ الفاظ ” جب تم میں سے کوئی شخص آئے“ عرب لوگوں کے ہاں صرف ایک شخص کے لئے استعمال ہونا مستحیل و ناممکن ہے بلکہ یہ جمع کے لئے آتا ہے۔ میں نے اس حدیث کے طرق کتاب الجمعہ میں بیان کردئیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1835]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 930، 931، 1166، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 875، وابن الجارود فى "المنتقى"، 322، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1831، 1832، 1833، 1834، 1835، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2500، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1394، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1115، والترمذي فى (جامعه) برقم: 510، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1112، 1114، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5771، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1610، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14391»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1835 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1835
فوائد:
➊ احادیث الباب دلیل ہیں کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد، مسجد میں بیٹھنے سے قبل دو رکعت نماز (تحیۃ المسجد) ادا کرنا واجب ہے۔ ◈ امام شوکانی رحمہ اللہ نے (ان روایات سے) یہی نتیجہ کشید کیا ہے اور امام صنعانی رحمہ اللہ اس کے وجوب کے قائل ہیں۔ [نیل الأوطار: 367/4، سبل السلام: 62/2]
➋ خطبہ جمعہ کے دوران بھی تحیۃ المسجد کا اہتمام کرنا چاہیے اور جو لوگ اس نماز کا اہتمام نہ کریں، امام انہیں متنبہ کر سکتا ہے۔
➌ تحیۃ المسجد کا اہتمام واجب ہے، کیونکہ کوئی ایسا قرینہ صارفہ نہیں جو مسجد میں بیٹھنے سے قبل دو رکعت نماز پڑھنے کے حکم کو مستحب اور دو رکعت نماز پڑھے بغیر بیٹھنے کی نہی کو کراہت پر محمول کرتا ہو۔ اور اس بارے میں جو روایات پیش کی جاتی ہیں، ایک بھی واضح نص نہیں کہ کوئی صحابی یا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم تحیۃ المسجد کے اہتمام کے بغیر بیٹھے ہوں یا کوئی صحابی بیٹھا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تحیۃ المسجد کی ادائیگی کا نہ کہا ہو۔
➍ تحیۃ المسجد کا اہتمام نماز کے ممنوعہ اوقات میں بھی کرنا چاہیے، جس میں کسی وقت کی ممانعت نہیں ہے کیونکہ یہ سببی نماز ہے اور سببی نماز کا کسی بھی وقت ادا کرنا مباح ہے۔
➊ احادیث الباب دلیل ہیں کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد، مسجد میں بیٹھنے سے قبل دو رکعت نماز (تحیۃ المسجد) ادا کرنا واجب ہے۔ ◈ امام شوکانی رحمہ اللہ نے (ان روایات سے) یہی نتیجہ کشید کیا ہے اور امام صنعانی رحمہ اللہ اس کے وجوب کے قائل ہیں۔ [نیل الأوطار: 367/4، سبل السلام: 62/2]
➋ خطبہ جمعہ کے دوران بھی تحیۃ المسجد کا اہتمام کرنا چاہیے اور جو لوگ اس نماز کا اہتمام نہ کریں، امام انہیں متنبہ کر سکتا ہے۔
➌ تحیۃ المسجد کا اہتمام واجب ہے، کیونکہ کوئی ایسا قرینہ صارفہ نہیں جو مسجد میں بیٹھنے سے قبل دو رکعت نماز پڑھنے کے حکم کو مستحب اور دو رکعت نماز پڑھے بغیر بیٹھنے کی نہی کو کراہت پر محمول کرتا ہو۔ اور اس بارے میں جو روایات پیش کی جاتی ہیں، ایک بھی واضح نص نہیں کہ کوئی صحابی یا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم تحیۃ المسجد کے اہتمام کے بغیر بیٹھے ہوں یا کوئی صحابی بیٹھا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تحیۃ المسجد کی ادائیگی کا نہ کہا ہو۔
➍ تحیۃ المسجد کا اہتمام نماز کے ممنوعہ اوقات میں بھی کرنا چاہیے، جس میں کسی وقت کی ممانعت نہیں ہے کیونکہ یہ سببی نماز ہے اور سببی نماز کا کسی بھی وقت ادا کرنا مباح ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1835]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1835 in Urdu
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري