الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نماز جمعہ سے پہلے طویل نفل نماز پڑھنا مستحب ہے
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ سے پہلے وہ جتنی نماز پڑھے گا وہ نفل ہوگی، اس میں سے فرض کوئی نہیں ہوگی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی روایات میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ”اُس نے جتنی اُس کے مقدر میں لکھی تھی نماز پڑھی۔“ اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”جو اس کے مقدر میں تھی (اُس نے پڑھی)“ اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ” تو اُس نے نماز پڑھی اگر اُس نے چاہا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: Q1836]
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 1836
نا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ زِيَادٌ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ . وَقَالَ الآخَرَانِ: عَنْ أَيُّوبَ , قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ:" قَدْ كَانَ يُطِيلُ الصَّلاةَ قَبْلَهَا , وَيُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ , وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ"
جناب ایوب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے پوچھا، کیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ وہ جمعہ سے پہلے بڑی طویل نماز پڑھتے تھے اور جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعات ادا کرتے تھے۔ اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح عمل کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1836]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي