صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نماز جمعہ سے پہلے طویل نفل نماز پڑھنا مستحب ہے
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ سے پہلے وہ جتنی نماز پڑھے گا وہ نفل ہوگی، اس میں سے فرض کوئی نہیں ہوگی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی روایات میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ”اُس نے جتنی اُس کے مقدر میں لکھی تھی نماز پڑھی۔“ اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”جو اس کے مقدر میں تھی (اُس نے پڑھی)“ اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ” تو اُس نے نماز پڑھی اگر اُس نے چاہا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: Q1836]
حدیث نمبر: 1836
نا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ زِيَادٌ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ . وَقَالَ الآخَرَانِ: عَنْ أَيُّوبَ , قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ:" قَدْ كَانَ يُطِيلُ الصَّلاةَ قَبْلَهَا , وَيُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ , وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ"
جناب ایوب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے پوچھا، کیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ وہ جمعہ سے پہلے بڑی طویل نماز پڑھتے تھے اور جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعات ادا کرتے تھے۔ اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح عمل کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1836]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 937، 1165، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 728، ومالك فى (الموطأ) برقم: 576، وابن الجارود فى "المنتقى"، 304، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1197، 1198، 1836، 1870، 1871، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2454، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1076، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 872، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1127، والترمذي فى (جامعه) برقم: 425، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1131، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3090، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4593»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1836 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1836
فوائد:
➊ نماز جمعہ سے قبل بلا تحدید نوافل ادا کرنے کی رخصت ہے اور ان نوافل کو طول دینا مستحب فعل ہے۔
➋ نماز جمعہ کے بعد مسجد میں چار رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے اور گھر پر دو رکعت نماز پڑھنا مسنون ہے، لہٰذا جس نے مسجد میں نوافل ادا کرنے ہوں اس کے لیے بہتر ہے کہ چار نوافل ادا کرے ورنہ گھر میں دو رکعت کا اہتمام کرے۔
➊ نماز جمعہ سے قبل بلا تحدید نوافل ادا کرنے کی رخصت ہے اور ان نوافل کو طول دینا مستحب فعل ہے۔
➋ نماز جمعہ کے بعد مسجد میں چار رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے اور گھر پر دو رکعت نماز پڑھنا مسنون ہے، لہٰذا جس نے مسجد میں نوافل ادا کرنے ہوں اس کے لیے بہتر ہے کہ چار نوافل ادا کرے ورنہ گھر میں دو رکعت کا اہتمام کرے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1836]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1836 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي