صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
گزشتہ مختصر روایت کی تفصیل بیان کرنے والی روایت کا ذکر اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کو چار رکعات نفل ادا کرنے کا حُکم دیا ہے جبکہ وہ جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا ارادہ کرے اس بات کی دلیل کے ساتھ کہ جمعہ کے بعد جتنی نماز پڑھے گا وہ نفل ہوگی فرض نہیں
حدیث نمبر: 1874
نا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، جَمِيعًا، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے تو وہ اس کے بعد چار رکعات پڑھے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1874]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 881، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1873، 1874، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2477، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1425، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1131، والترمذي فى (جامعه) برقم: 523، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1616، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1132، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6019، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7518»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1874 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1874
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز جمعہ کے بعد سنتیں پڑھنا اور ان کی ترغیب دینا مستحب فعل ہے۔ جمعہ کے بعد کم از کم نماز دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ چار رکعتیں مسنون ہیں۔
➋ «مَن كَانَ مِنكُمْ مُصَلِّياً» کے الفاظ دلیل ہیں کہ جمعہ کے بعد چار نوافل مسنون ہیں، واجب نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار نوافل ان کی فضیلت کی وجہ سے بیان کیے ہیں اور مختلف اوقات میں جمعہ کے بعد دو رکعتیں بیانِ جواز کے لیے ادا کی ہیں۔ [شرح النووي: 6/169]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز جمعہ کے بعد سنتیں پڑھنا اور ان کی ترغیب دینا مستحب فعل ہے۔ جمعہ کے بعد کم از کم نماز دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ چار رکعتیں مسنون ہیں۔
➋ «مَن كَانَ مِنكُمْ مُصَلِّياً» کے الفاظ دلیل ہیں کہ جمعہ کے بعد چار نوافل مسنون ہیں، واجب نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار نوافل ان کی فضیلت کی وجہ سے بیان کیے ہیں اور مختلف اوقات میں جمعہ کے بعد دو رکعتیں بیانِ جواز کے لیے ادا کی ہیں۔ [شرح النووي: 6/169]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1874]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1874 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي