صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رمضان المبارک میں جنّت کےدروازوں کے کھلنے کا بیان
حدیث نمبر: 1882
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نا أَبُو سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَاءَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو سُهَيْلٍ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنّم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ابوسہیل سیدنا مالک بن انس رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1882]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1898، 1899، 3277، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1079، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1101، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1882، 1883، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3434، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1537، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2096، والترمذي فى (جامعه) برقم: 682، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1642، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8002، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7269»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1882 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1882
فوائد:
جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطان پابند سلاسل ہو جاتے ہیں۔
◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں:
➊ یہ امور حقیقت پر محمول کیے جائیں اور جنت کے دروازوں کا کھولنا، جہنم کے دروازوں کو بند کرنا اور شیاطین کی جکڑ بندی اس عظیم ماہ کے آغاز اور اس کی عظیم حرمت کی علامت ہے، اور شیاطین کو اس لیے قید کیا جاتا ہے تاکہ وہ اہل ایمان کو ایذا دینے اور انہیں گمراہ کرنے سے باز رہیں۔
➋ یہ بھی احتمال ہے کہ (جنت کے دروازے کھلنے، جہنم کے دروازے بند ہونے اور شیاطین کی قید سے) مجازی معنی مراد ہوں، اور اس سے مقصود کثرتِ ثواب اور عام معافی ہو اور شیاطین کے گمراہ کرنے اور لوگوں کو ایذا پہنچانے کا عمل دخل انتہائی کم ہو جاتا ہے۔ [شرح النووي: 188/7]
➌ رمضان کے مہینے میں تمام شیاطین پابند سلاسل نہیں ہوتے بلکہ سرکش اور شیاطین کی قیادت قید کی جاتی ہے، جس سے بڑے فتنوں اور زیادہ فتنہ سامانیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ البتہ کم تر درجے کے شیاطین اور انسانی نفسِ امارہ کی سرگرمیاں اور بغاوتیں اپنا عمل جاری رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے رمضان کے مقدس مہینے میں بھی گناہ، گمراہی، بغاوت اور سرکشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انسانی شیاطین کی وجہ سے بھی گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔
➍ رمضان المبارک کے مہینے میں فرشتوں کے ذریعے منادی کرا کے نیکی کی ترغیب دی جاتی ہے اور بدی سے روکا جاتا ہے۔
➎ رمضان کی ہر رات کو خوش قسمت لوگوں کو جہنم سے آزادی دی جاتی ہے اور یہ سلسلہ تا اختتامِ رمضان جاری رہتا ہے تاکہ انسان خود کو اس قابل بنائے کہ وہ جہنم سے آزاد کردہ گروہ میں شامل ہو جائے۔
جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطان پابند سلاسل ہو جاتے ہیں۔
◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں:
➊ یہ امور حقیقت پر محمول کیے جائیں اور جنت کے دروازوں کا کھولنا، جہنم کے دروازوں کو بند کرنا اور شیاطین کی جکڑ بندی اس عظیم ماہ کے آغاز اور اس کی عظیم حرمت کی علامت ہے، اور شیاطین کو اس لیے قید کیا جاتا ہے تاکہ وہ اہل ایمان کو ایذا دینے اور انہیں گمراہ کرنے سے باز رہیں۔
➋ یہ بھی احتمال ہے کہ (جنت کے دروازے کھلنے، جہنم کے دروازے بند ہونے اور شیاطین کی قید سے) مجازی معنی مراد ہوں، اور اس سے مقصود کثرتِ ثواب اور عام معافی ہو اور شیاطین کے گمراہ کرنے اور لوگوں کو ایذا پہنچانے کا عمل دخل انتہائی کم ہو جاتا ہے۔ [شرح النووي: 188/7]
➌ رمضان کے مہینے میں تمام شیاطین پابند سلاسل نہیں ہوتے بلکہ سرکش اور شیاطین کی قیادت قید کی جاتی ہے، جس سے بڑے فتنوں اور زیادہ فتنہ سامانیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ البتہ کم تر درجے کے شیاطین اور انسانی نفسِ امارہ کی سرگرمیاں اور بغاوتیں اپنا عمل جاری رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے رمضان کے مقدس مہینے میں بھی گناہ، گمراہی، بغاوت اور سرکشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انسانی شیاطین کی وجہ سے بھی گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔
➍ رمضان المبارک کے مہینے میں فرشتوں کے ذریعے منادی کرا کے نیکی کی ترغیب دی جاتی ہے اور بدی سے روکا جاتا ہے۔
➎ رمضان کی ہر رات کو خوش قسمت لوگوں کو جہنم سے آزادی دی جاتی ہے اور یہ سلسلہ تا اختتامِ رمضان جاری رہتا ہے تاکہ انسان خود کو اس قابل بنائے کہ وہ جہنم سے آزاد کردہ گروہ میں شامل ہو جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1882]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1882 in Urdu
مالك بن أبي عامر الأصبحي ← أبو هريرة الدوسي