صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
روزے دار کی خوشی کا بیان کہ جب اللہ تعالی قیامت کے دن اسے اس کے روزے کا ثواب بغیر حساب کے دے گا۔ اللہ تعالی ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے
حدیث نمبر: 1900
ثنا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأَبِي سَعِيدٍ ، قَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: الصَّوْمُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" . لَمْ يَقُلِ الدَّوْرَقِيُّ:" فَجَزَاهُ"
سیدنا ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوںگا۔ روزے دار کے لئے دو خوشی کے مواقع ہیں، ① جب افطاری کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ ② جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا اور وہ اسے اجر وثواب دے گا تو خوش ہوگا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، روزے دار کے مُنہ کی بُو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر اور اچھی ہے۔ جناب دورقی کی روایت میں ”اس کو اجر و ثواب دے گا ـ“ کے الفاظ نہیں ہیں ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1900]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1099، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، 1896، 1897، 1898، 1899، 1900، 1992، 1993، 1994، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1900 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1900
فوائد:
➊ علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جب تمام اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے روزے کو خاص کیوں کہا ہے۔ اس کے مفہوم کی کئی توجیہات ہیں:
(الف) روزوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی معبودِ باطل کی روزوں کے ذریعے عبادت نہیں کی گئی۔
(ب) اعمال کی قبولیت کے لیے طلبِ ثواب کی نیت اہم شرط ہے۔ چنانچہ کسی بھی دور میں کفار نے اپنے معبودوں کی روزوں سے تعظیم نہیں کی۔ اس کے برعکس وہ نماز، سجود، صدقہ اور ذکر وغیرہ سے معبودانِ باطلہ کی تعظیم کرتے رہے ہیں۔ (اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے روزوں کی اضافت اپنی ذات کی طرف کی ہے کہ روزہ میرے لیے ہے۔)
(ج) روزہ مخفی عبادت ہے، اس لیے یہ ریاء اور دکھاوے سے بعید ہے۔ جب کہ نماز، حج، جہاد اور صدقہ وغیرہ ظاہری عبادات ہیں اور ان میں ریاء کا عنصر شامل ہو سکتا ہے۔
(و) اللہ تعالیٰ نے روزوں کی نسبت اپنی طرف بطورِ خاص اس لیے کی ہے کہ روزے دار کا روزے میں ذاتی کوئی مفاد نہیں ہے۔
➋ ان احادیث میں روزہ کی فضیلت و ترغیب کا بیان ہے۔ [شرح النووي: 29/8]
➌ اللہ تعالیٰ کو روزہ دار کے منہ کی بو کستوری سے زیادہ پسند ہے۔ اور حالتِ روزہ میں منہ کی بو اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث ہے۔
➍ حالتِ روزہ میں مسواک کرنے کی کوئی پابندی نہیں اور مسواک کرنے سے منہ کی بو زائل نہیں ہوتی۔ کیونکہ حالتِ روزہ میں منہ کی بو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے اور مسواک کرنے یا نہ کرنے سے یہ باقی رہتی ہے۔ لہذا ان احادیث سے دورانِ روزہ پچھلے پہر مسواک کو مکروہ قرار دینا کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔
➎ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ان الفاظ میں کہ ”روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا“، روزے کی فضیلت اور کثرتِ ثواب کا بیان ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ بتائے کہ وہ خود جزا دے گا، تو یہ الفاظ عطیہ و جزا کی قدرِ عظیم اور بہت زیادہ وسعت کے متقاضی ہوتے ہیں۔ [شرح النووي: 29/8]
➊ علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جب تمام اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے روزے کو خاص کیوں کہا ہے۔ اس کے مفہوم کی کئی توجیہات ہیں:
(الف) روزوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی معبودِ باطل کی روزوں کے ذریعے عبادت نہیں کی گئی۔
(ب) اعمال کی قبولیت کے لیے طلبِ ثواب کی نیت اہم شرط ہے۔ چنانچہ کسی بھی دور میں کفار نے اپنے معبودوں کی روزوں سے تعظیم نہیں کی۔ اس کے برعکس وہ نماز، سجود، صدقہ اور ذکر وغیرہ سے معبودانِ باطلہ کی تعظیم کرتے رہے ہیں۔ (اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے روزوں کی اضافت اپنی ذات کی طرف کی ہے کہ روزہ میرے لیے ہے۔)
(ج) روزہ مخفی عبادت ہے، اس لیے یہ ریاء اور دکھاوے سے بعید ہے۔ جب کہ نماز، حج، جہاد اور صدقہ وغیرہ ظاہری عبادات ہیں اور ان میں ریاء کا عنصر شامل ہو سکتا ہے۔
(و) اللہ تعالیٰ نے روزوں کی نسبت اپنی طرف بطورِ خاص اس لیے کی ہے کہ روزے دار کا روزے میں ذاتی کوئی مفاد نہیں ہے۔
➋ ان احادیث میں روزہ کی فضیلت و ترغیب کا بیان ہے۔ [شرح النووي: 29/8]
➌ اللہ تعالیٰ کو روزہ دار کے منہ کی بو کستوری سے زیادہ پسند ہے۔ اور حالتِ روزہ میں منہ کی بو اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث ہے۔
➍ حالتِ روزہ میں مسواک کرنے کی کوئی پابندی نہیں اور مسواک کرنے سے منہ کی بو زائل نہیں ہوتی۔ کیونکہ حالتِ روزہ میں منہ کی بو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے اور مسواک کرنے یا نہ کرنے سے یہ باقی رہتی ہے۔ لہذا ان احادیث سے دورانِ روزہ پچھلے پہر مسواک کو مکروہ قرار دینا کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔
➎ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ان الفاظ میں کہ ”روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا“، روزے کی فضیلت اور کثرتِ ثواب کا بیان ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ بتائے کہ وہ خود جزا دے گا، تو یہ الفاظ عطیہ و جزا کی قدرِ عظیم اور بہت زیادہ وسعت کے متقاضی ہوتے ہیں۔ [شرح النووي: 29/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1900]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1900 in Urdu
أبو هريرة الدوسي ← أبو سعيد الخدري