صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سحری کھانے کا حُکم مستحب اور راہنمائی کے لئے ہے کیونکہ سحری کھانا بابرکت ہے۔ یہ حُکم فرض و واجب نہیں کہ سحری نہ کھانے والا گناہ گار شمار ہو
حدیث نمبر: 1937
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَسَحَّرُوا ؛ فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1937]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1923، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1095، وابن الجارود فى "المنتقى"، 420، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1937، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3466، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2145، والترمذي فى (جامعه) برقم: 708، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1738، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1692، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8210، 8211، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12131»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1937 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1937
فوائد:
➊ (ان احادیث میں) سحری کی ترغیب کا بیان ہے اور علماء کا سحری کے استحباب پر اجماع ہے۔ یہ واجب نہیں ہے۔ سحری میں برکت سے واضح ہے کہ اس سے انسان روزہ کے لیے قوت حاصل کرتا ہے۔ اس سے جسم میں نشاط پیدا ہوتا ہے۔ اور سحری کے سبب مزید روزوں میں رغبت پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے روزہ کی مشقت کم ہو جاتی ہے۔ [شرح النووي: 4/72]
➋ یہاں حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے کہ روزہ دار سحری کے وقت کچھ نہ کچھ ضرور تناول کریں۔ ◈ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کھانے اور پینے کی کم از کم مقدار سے سحری کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔ [تحفة الأحوذي: 2/245]
➊ (ان احادیث میں) سحری کی ترغیب کا بیان ہے اور علماء کا سحری کے استحباب پر اجماع ہے۔ یہ واجب نہیں ہے۔ سحری میں برکت سے واضح ہے کہ اس سے انسان روزہ کے لیے قوت حاصل کرتا ہے۔ اس سے جسم میں نشاط پیدا ہوتا ہے۔ اور سحری کے سبب مزید روزوں میں رغبت پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے روزہ کی مشقت کم ہو جاتی ہے۔ [شرح النووي: 4/72]
➋ یہاں حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے کہ روزہ دار سحری کے وقت کچھ نہ کچھ ضرور تناول کریں۔ ◈ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کھانے اور پینے کی کم از کم مقدار سے سحری کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔ [تحفة الأحوذي: 2/245]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1937]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1937 in Urdu
عبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري