صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ سحری پر صبح کے کھانے کا لفظ غداء بھی بول دیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1938
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالُوا: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَجُلا إِلَى السَّحُورِ , فَقَالَ:" هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ" . وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ:" هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ". وَزَادَا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ، وَقِهِ الْعَذَابَ" . وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ: عَنْ مُعَاوِيَةَ , وَقَالَ:" هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ"
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ ایک شخص کو سحری کھانے کی دعوت دے رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آؤ صبح کا مبارک کھانا کھاؤ ـ“ جناب الدورقی اور عبداللہ بن ہاشم کی روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان میں سحری کے کھانے کی دعوت دے رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ مبارک صبح کا کھانا کھاؤ۔“ دونوں نے اپنی اپنی روایت میں یہ اضافہ بیان کیا ہے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے اللہ، معاویہ کو قرآن اور حساب کرنا سکھا اور اسے عذاب سے بچا۔ جناب عبداللہ بن ہاشم، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ صبح کا بابرکت کھانا کھاؤ۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1938]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1938، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3465، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2162، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2484، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2344، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8213، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17417»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1938 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1938
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ سحری کا کھانا بابرکت کھانا ہے، کیونکہ اس کے طفیل روزہ دار روزے سے تقویت حاصل کرتا ہے۔ اس سے بدن میں نشاط آتی ہے اور سحری کھانے کی بدولت وہ تلاوت، اذکار، نوافل اور روزے کے دیگر امور کو احسن انداز سے نبھا سکتا ہے۔
➋ خود سحری کرنا اور دوسروں کو سحری کی ترغیب دینا مستحب فعل ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ سحری کا کھانا بابرکت کھانا ہے، کیونکہ اس کے طفیل روزہ دار روزے سے تقویت حاصل کرتا ہے۔ اس سے بدن میں نشاط آتی ہے اور سحری کھانے کی بدولت وہ تلاوت، اذکار، نوافل اور روزے کے دیگر امور کو احسن انداز سے نبھا سکتا ہے۔
➋ خود سحری کرنا اور دوسروں کو سحری کی ترغیب دینا مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1938]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1938 in Urdu
أحزاب بن راشد السماعي ← العرباض بن سارية السلمي