🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
امام کا رمضان المبارک کے دن میں جماع کرکے روزہ توڑنے والے کو کفّارہ ادا کرنے کے لئے عطیہ دینا جبکہ اس کے پاس کفّارہ ادا کرنے کے لئے کچھ موجود نہ ہو۔ اس دلیل کے ساتھ کہ رمضان المبارک کے دن میں ہمبستری کرکے روزہ توڑںے والے کے پاس اگر ہمبستری کے وقت کفارہ ادا کرنے کی طاقت نہ ہوتو پھر اُسے کفّارہ ادا کرنے کی طاقت حاصل ہوجائے تو اُس پر کفّارہ ادا کرنا واجب ہوگا


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1945
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُ: إِنَّ الآخَرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ. قَالَ: فَقَالَ لَهُ:" أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً؟" قَالَ: لا. قَالَ:" أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لا. قَالَ:" أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لا. قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ , فَقَالَ:" أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ". فَقَالَ: مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجَ مِنَّا، قَالَ:" فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے کہنے لگا کہ اس بد نصیب نے رمضان مبارک میں (دن کے وقت) اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے پوچھا: کیا تیرے پاس گردن آزاد کرنے کی طاقت ہے؟ اُس نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ اُس نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا تمہارے پاس ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے؟ اُس نے عرض کی کہ نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ اسے زنبیل کہتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی طرف سے یہ کھجوریں (مسا کین کو) کھلا دو۔ تو اُس نے عرض کی کہ مدینے کے دو پتھر یلے کناروں کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1945]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1936، 1937، 2600، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1111، وابن الجارود فى "المنتقى"، 421، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1943، 1944، 1945، 1949، 1950، 1951، 1954، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3523، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2390، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1671، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8136، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2303، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7063»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥حميد بن عبد الرحمن الزهري، أبو عثمان، أبو إبراهيم، أبو عبد الرحمن
Newحميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← حميد بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥يوسف بن موسى الرازي، أبو يعقوب
Newيوسف بن موسى الرازي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
صدوق حسن الحديث
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1945 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1945
فوائد:
➊ روزہ کی حالت میں عمداً جماع کرنا حرام ہے اور اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔
➋ حالتِ روزہ میں جماع کرنے والے پر کفارہ لازم آتا ہے، جو بالترتیب یہ ہے:
➌ اگر استطاعت ہو تو عیوب سے پاک مومن غلام آزاد کرے۔
➍ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔
➎ اگر روزے رکھنے سے قاصر ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ پھر اگر وہ ان تینوں چیزوں پر عمل کرنے سے قاصر ہے تو امام و حاکم اور دیگر مالدار لوگ اس کی طرف سے کفارہ (ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا) کا سامان کریں گے، اور اگر وہ شخص خود ہی نادار و مفلس ہے تو اس پر صدقہ کرنا بھی جائز ہے۔
➏ بھول کر جماع کرنے سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے اور نہ اس کا کوئی کفارہ ہے۔
➐ اگر جماع میں بیوی مجبور ہے تو اس پر کفارہ لازم نہیں آئے گا، بصورتِ دیگر اس پر بھی کفارہ لازم آئے گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1945]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1945 in Urdu