صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جو شخص جان بوجھ کر قے کرے اس پر روزے کی قضا دینا واجب ہے
حدیث نمبر: 1961
حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ:" مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَبُو سَعِيدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
امام صاحب اپنے استاد علی بن حجر سعدی کی دوسری روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو قے خود بخود آجائے تو اس پر قضا دینا واجب نہیں ہے اور جو جان بوجھ کرقے کرے تو وہ اس کی قضا دے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1961]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 424، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1960، 1961، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3518، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1561، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2380، والترمذي فى (جامعه) برقم: 720، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1770، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1676، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8123، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2273، وأحمد فى (مسنده) برقم: 10609»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله | ثقة حافظ | |
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر حفص بن غياث النخعي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن سليمان الجعفي، أبو سعيد يحيى بن سليمان الجعفي ← حفص بن غياث النخعي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← يحيى بن سليمان الجعفي | ثقة حافظ جليل |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1961 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1961
فوائد:
➊ (یہ احادیث) دلیل ہیں کہ خود بخود قے آنے سے تو نہ اس کا روزہ باطل ہوتا ہے اور نہ اس پر اس دن کے روزہ کی قضا لازم آتی ہے۔ اور جو شخص عمداً قے کرے حالانکہ قے کا غلبہ نہ ہو تو اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے اور اس پر اس دن کے روزہ کی قضا واجب ہے۔ [نیل الأوطار: 7/49]
➋ ◈ ابن منذر نے اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے کہ جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ [عون المعبود: 7/60-61]
➊ (یہ احادیث) دلیل ہیں کہ خود بخود قے آنے سے تو نہ اس کا روزہ باطل ہوتا ہے اور نہ اس پر اس دن کے روزہ کی قضا لازم آتی ہے۔ اور جو شخص عمداً قے کرے حالانکہ قے کا غلبہ نہ ہو تو اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے اور اس پر اس دن کے روزہ کی قضا واجب ہے۔ [نیل الأوطار: 7/49]
➋ ◈ ابن منذر نے اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے کہ جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ [عون المعبود: 7/60-61]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1961]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1961 in Urdu
حفص بن غياث النخعي ← هشام بن حسان الأزدي