صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
روزے کی حالت میں جھوٹی بات کرنے اور اسپر عمل کرنے کی ممانعت اور جاہلانہ حرکت کے ارتکاب پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 1995
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ بِأَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ" . هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ:" وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالیٰ کو اُس کے کھانا اور پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت اور پروا نہیں ہے۔ یہ جناب بندار کی روایت ہے۔ ابن المبارک کی روایت میں ہے کہ ” جھوٹ پر عمل کرنا اور جاہلانہ حرکا ت ترک نہیں کرتا تو۔۔۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1995]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1903، 6057، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1995، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3480، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3232، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2362، والترمذي فى (جامعه) برقم: 707، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1689، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8400، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9974»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1995 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1995
فوائد:
➊ ◈ ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ جو شخص جھوٹی بات اور جہالت کا مرتکب ہو، وہ روزہ ترک کر دے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ روزہ دار ان قبیح افعال سے اجتناب برتے۔ [فتح الباري: 142/6]
➋ ◈ مہلب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے کہ حالت روزہ میں جیسے طعام و شراب ترک کیا جاتا ہے، اسی طرح روزہ میں فحش گوئی اور جھوٹ کو ترک کرنا بھی لازم ہے۔ اور روزہ دار اگر ان افعال بد سے باز نہ آئے تو اس کا روزہ ناقص ہوگا۔ یہ افعال رب کی ناراضی کا باعث ہوں گے اور اس کا روزہ قبول نہیں ہوگا۔ [شرح ابن بطال: 73/2]
➊ ◈ ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ جو شخص جھوٹی بات اور جہالت کا مرتکب ہو، وہ روزہ ترک کر دے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ روزہ دار ان قبیح افعال سے اجتناب برتے۔ [فتح الباري: 142/6]
➋ ◈ مہلب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے کہ حالت روزہ میں جیسے طعام و شراب ترک کیا جاتا ہے، اسی طرح روزہ میں فحش گوئی اور جھوٹ کو ترک کرنا بھی لازم ہے۔ اور روزہ دار اگر ان افعال بد سے باز نہ آئے تو اس کا روزہ ناقص ہوگا۔ یہ افعال رب کی ناراضی کا باعث ہوں گے اور اس کا روزہ قبول نہیں ہوگا۔ [شرح ابن بطال: 73/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1995]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1995 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي