صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
164. (163) باب استحباب الوضوء للدعاء، ومسألة الله ليكون المرء طاهرا عند الدعاء والمسألة.
دعا اور اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے لیے وضو کرنا مستحب ہے۔ تاکہ آدمی دعا اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے وقت پاک (باوضو) ہو
حدیث نمبر: 210
وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ: عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى بِأَرْضِ سَعْدٍ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ. نا بُنْدَارٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا: نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی زمین میں نماز ادا کی۔ پھر باقی قصّہ بیان کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23071»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 210 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 210
فوائد:
دعا سے قبل باوضو ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی حاجات پیش کرنا مستحب عمل ہے اور باوضو ہو کر دعا کرنے سے دعا کی قبولیت کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔
کیونکہ اس صورت میں انسان اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور یہ نبوی طریقہ بھی ہے۔
لہٰذا دعا کا مذکورہ طریقہ افضل اور مستحب ہے۔
دعا سے قبل باوضو ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی حاجات پیش کرنا مستحب عمل ہے اور باوضو ہو کر دعا کرنے سے دعا کی قبولیت کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔
کیونکہ اس صورت میں انسان اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور یہ نبوی طریقہ بھی ہے۔
لہٰذا دعا کا مذکورہ طریقہ افضل اور مستحب ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 210]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 210 in Urdu
عثمان بن عمر العبدي ← محمد بن أبي ذئب العامري