صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان
حدیث نمبر: 2113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، إِلا بَاعَدَ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ وَبَيْنَ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ بھی اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے چہرے اور جہّنم کی آگ کے درمیان ستّر سال کی دُوری ڈال دیتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2840، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1153، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2112، 2113، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3417، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1623، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2444، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1717، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8543، 18648، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8105»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2113 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2113
فوائد:
➊ ◈ مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (یہ احادیث دلیل ہیں کہ) نیکی کے تمام اعمال سے روزہ افضل ہے، الا کہ روزہ کی وجہ سے دشمن سے آمنا سامنا ہونے کے وقت ضعفِ بدن کا خدشہ نہ ہو۔ [شرح ابن بطال: 9/62]
➋ ◈ نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (احادیث الباب میں اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان ہے) اور یہ اس شخص کے حق میں افضل ہے، جو روزہ سے تکلیف محسوس نہ کرے، کسی کے حق میں کوتاہی نہ کرے اور روزہ کی وجہ سے قتال اور مہماتِ غزوہ میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔
➌ جہنم کی دوری سے مراد جہنم سے نجات ہے اور خریف سے مراد سال ہے۔ [شرح النووی: 8/33]
➊ ◈ مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (یہ احادیث دلیل ہیں کہ) نیکی کے تمام اعمال سے روزہ افضل ہے، الا کہ روزہ کی وجہ سے دشمن سے آمنا سامنا ہونے کے وقت ضعفِ بدن کا خدشہ نہ ہو۔ [شرح ابن بطال: 9/62]
➋ ◈ نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (احادیث الباب میں اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان ہے) اور یہ اس شخص کے حق میں افضل ہے، جو روزہ سے تکلیف محسوس نہ کرے، کسی کے حق میں کوتاہی نہ کرے اور روزہ کی وجہ سے قتال اور مہماتِ غزوہ میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔
➌ جہنم کی دوری سے مراد جہنم سے نجات ہے اور خریف سے مراد سال ہے۔ [شرح النووی: 8/33]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2113]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2113 in Urdu
النعمان بن أبي عياش الزرقي ← أبو سعيد الخدري