پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
پیر کا روزہ رکھنا مستحب ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولادت باسعادت اس دن ہوئی، اسی دن آپ کی طرف وحی بھیجی گئی اور اسی دن آپ کی وفات ہوئی
حدیث نمبر: 2117
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ يَعْنِي عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، صَوْمُ يَوْمِ الاثْنَيْنِ؟ قَالَ:" يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ أَمُوتُ فِيهِ" . هَذَا حَدِيثُ قَتَادَةَ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُذْكَرْ عُمَرَ. وَقَالَ:" فِيهِ وُلِدْتُ، وَفِيهِ أُوحِيَ إِلَيَّ"
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف متوجہ ہوئے تو پوچھا کہ اے اللہ کے نبی، پیر کے دن کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن میری وفات ہوگی۔“ یہ حدیث قتادہ کی ہے۔ جناب وکیع کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ اور اس میں ہے کہ ”اس دن میں پیدا ہوا، اور اس دن میری طرف وحی گئی۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1162، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2087، 2117، 2126، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3631، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4201، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2381، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2425، والترمذي فى (جامعه) برقم: 749، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1730، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8467، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22953»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2117 in Urdu
عبد الله بن معبد الزماني ← الحارث بن ربعي السلمي