صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے“ سے اُن کی مراد ماہِ شبعان ہے . آپ اس مہنے کے روزے رمضان کے روزوں کے ساتھ ملادیتے تھے
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لا يَصُومُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ أَوْ عَامَّةَ شَعْبَانَ"
سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کی کیفیت کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ (اسقدر مسلسل) روزے رکھتے کہ ہم کہتے کہ آپ ناغہ نہیں کریں گے اور پھر روزے رکھنا چھوڑ دیتے، حتّیٰ کہ ہم کہنا شروع ہو جاتے کہ آپ اب روزے نہیں رکھیں گے۔ آپ سارا ماہ شعبان یا اکثر شعبان کے روزے رکھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 730، 1147، 1159، 1969، 1970، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 738، ومالك فى (الموطأ) برقم: 394، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 49، 1102، 1166، 1283، 1626، 2078، 2133، 2213، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 353، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 761، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1340، 1341، والترمذي فى (جامعه) برقم: 439، 737، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1515، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 942، 1196، 1710، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24707»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2133 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق