صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اکیلے جمعہ کا روزہ رکھنے والے کو دن کا کچھ حصّہ گزر جانے کے بعد روزہ کھولنے کا حُکم دینا
حدیث نمبر: 2162
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ صَائِمَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ:" أَصُمْتِ أَمْسِ؟" قَالَتْ: لا. قَالَ:" فَتَصُومِينَ غَدًا؟" قَالَتْ: لا. قَالَ:" فَأَفْطِرِي" . وَقَالَ هَارُونُ:" أَتُرِيدِينَ الصِّيَامَ غَدًا؟"
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سیدہ جویریہ بنتِ حارثہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے جبکہ اُنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ اُنہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا صبح روزہ رکھو گی؟“ اُنہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر روزہ کھول دو۔“ جناب ہارون کی روایت میں ہے کہ ”کیا تم کل صبح روزہ رکھنا چاہتی ہو؟“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2162]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2162، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3611، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2766، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6889، والبزار فى (مسنده) برقم: 2350، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 7804، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9333، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3305»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2162 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2162
فوائد:
➊ جمعہ کا منفرد روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
➋ اگر کسی نے جمعہ کا منفرد روزہ رکھا ہو، اس سے پہلے جمعرات کا روزہ بھی نہیں رکھا اور ہفتہ کے دن کا روزہ رکھنے کا ارادہ بھی نہ ہو تو اسے روزہ توڑ دینا چاہیے۔
➊ جمعہ کا منفرد روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
➋ اگر کسی نے جمعہ کا منفرد روزہ رکھا ہو، اس سے پہلے جمعرات کا روزہ بھی نہیں رکھا اور ہفتہ کے دن کا روزہ رکھنے کا ارادہ بھی نہ ہو تو اسے روزہ توڑ دینا چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2162]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2162 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي