صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس دلیل کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان جو میں نے بیان کی ہے کہ شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا جائے گا نہ پہلے (دو عشروں کی) طاق راتوں میں
حدیث نمبر: 2177
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ الثَّالِثَةَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مذکورہ بالا کی طرح روایت کی اور تیسری رات کا اضافہ بیان کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2177]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2177 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2177
فوائد:
➊ اس رات فرشتے جانداروں کی تقدیر، ارزاق اور موت لکھتے ہیں، جو اس سال واقع ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے قول کے مطابق لیلۃ القدر کو شبِ قدر کے شرف و عظمت کی وجہ سے (قدر والی رات) کہا جاتا ہے۔ پھر اس کے وجودِ دوام پر علماء کا اجماع ہے اور احادیثِ صحیحہ کی رو سے لیلۃ القدر کا سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔
◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیلۃ القدر کی تعیین کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ چنانچہ علماء کی ایک جماعت کا موقف ہے کہ لیلۃ القدر کی رات ہر سال تبدیل ہوتی ہے۔ ایک سال ایک رات میں اور دوسرے سال دوسری مختلف رات میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اس مفہوم کی تعیین سے شبِ قدر کے بارے میں مروّی مختلف روایات میں تطبیق ممکن ہے۔
◈ امام مالک، ثوری، احمد، اسحاق اور ابوثور رحمہ اللہ علیہم و دیگر کا بھی یہی موقف ہے کہ شبِ قدر رمضان کے آخری عشرہ (کی طاق راتوں) میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ [شرح النووي: 8/75]
➋ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: لیلۃ القدر رمضان المبارک کے مہینے کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔ اس بارے میں منقول تمام روایات کا ما حصل یہی ہے۔ [فتح الباري: 6/301]
➊ اس رات فرشتے جانداروں کی تقدیر، ارزاق اور موت لکھتے ہیں، جو اس سال واقع ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے قول کے مطابق لیلۃ القدر کو شبِ قدر کے شرف و عظمت کی وجہ سے (قدر والی رات) کہا جاتا ہے۔ پھر اس کے وجودِ دوام پر علماء کا اجماع ہے اور احادیثِ صحیحہ کی رو سے لیلۃ القدر کا سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔
◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیلۃ القدر کی تعیین کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ چنانچہ علماء کی ایک جماعت کا موقف ہے کہ لیلۃ القدر کی رات ہر سال تبدیل ہوتی ہے۔ ایک سال ایک رات میں اور دوسرے سال دوسری مختلف رات میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اس مفہوم کی تعیین سے شبِ قدر کے بارے میں مروّی مختلف روایات میں تطبیق ممکن ہے۔
◈ امام مالک، ثوری، احمد، اسحاق اور ابوثور رحمہ اللہ علیہم و دیگر کا بھی یہی موقف ہے کہ شبِ قدر رمضان کے آخری عشرہ (کی طاق راتوں) میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ [شرح النووي: 8/75]
➋ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: لیلۃ القدر رمضان المبارک کے مہینے کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔ اس بارے میں منقول تمام روایات کا ما حصل یہی ہے۔ [فتح الباري: 6/301]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2177]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2177 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← أبو هريرة الدوسي