صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
قیام رمضان میں عورتوں کا امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنا مستحب ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ”جس شخص نے امام کے ساتھ قیام کیا حتّیٰ کہ امام نماز سے فارغ ہوگیا تو اُس کے لئے ساری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔“ میں اس بات کی دلیل ہے کہ قاری اور ان پڑھ شخص جب امام کے ساتھ اس کی نماز سے فارغ ہونے تک قیام کرتا ہے تو اُس کے لئے ساری رات کا قیام لکھا جاتا ہے اور ساری رات کے قیام کا ثواب کا لکھا جانا بعض رات کے قیام کے ثواب لکھے جانے سے افضل و بہتر ہے۔ جبکہ اُس نے قیام کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک کے دن میں روزہ رکھا، پانچ نمازیں باقاعدگی سے ادا کیں، زکوٰۃ ادا کی، اللہ کی توحید کی گواہی دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2211]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم برقم: 2206»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2211 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2211
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ رات کے نوافل کا باجماعت اہتمام کرنا افضل اور زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔
➋ نماز تراویح کے لیے نماز باجماعت کا انعقاد افضل عمل ہے اور عورتیں مردوں کی جماعت میں بھی شامل ہو سکتی ہیں، عورتوں کے لیے علیحدہ مرد امام مقرر کرنا بھی جائز ہے اور عورتیں خود بھی باجماعت نماز تراویح کا انعقاد کر سکتی ہیں۔
➌ امام کی معیت میں نماز تراویح کے اہتمام کرنے والے کو ساری رات کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ رات کے نوافل کا باجماعت اہتمام کرنا افضل اور زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔
➋ نماز تراویح کے لیے نماز باجماعت کا انعقاد افضل عمل ہے اور عورتیں مردوں کی جماعت میں بھی شامل ہو سکتی ہیں، عورتوں کے لیے علیحدہ مرد امام مقرر کرنا بھی جائز ہے اور عورتیں خود بھی باجماعت نماز تراویح کا انعقاد کر سکتی ہیں۔
➌ امام کی معیت میں نماز تراویح کے اہتمام کرنے والے کو ساری رات کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2211]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2211 in Urdu