صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رمضان المبارک کے صرف درمیانی اور آخری عشرے کے اعتکاف پر اکتفا کرنے کا بیان۔ کیونکہ سارے کا سارا فضیلت کا باعث ہے، فرض نہیں ہے اور فضیلت میں آدمی پر کچھ تنگی نہیں وہ اس میں کمی بیشی کرسکتا ہے
حدیث نمبر: 2220
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الثقفي ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" اعْتَكَفْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ وَرَجَعْنَا، فَنَامَ، فَأُرِيَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيَهَا، فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ، جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَخَطَبَ النَّاسَ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " وَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان المبارک کے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا۔ پھر جب آپ نے بیس تاریخ کی صبح کی اور ہم واپس چلے گئے تو آپ سوگئے۔ آپ کو خواب میں شب قدر دکھائی گئی۔ پھر آپ کو وہ بھلا دی گئی۔ پھر جب شام ہوئی تو آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں سے خطاب فرمایا۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ فرمایا کہ جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا تھا وہ اپنی اعتکاف کی جگہ میں واپس آجائے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2220]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 669، 813، 836، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1167، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 223، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2171، 2176، 2219، 2220، 2238، 2243، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3661، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1038، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1094، وأبو داود فى (سننه) برقم: 894، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1766، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11191»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2220 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2220
فوائد:
➊ رمضان کے درمیانی اور آخری عشرے کا اعتکاف جائز ومسنون اور اجر وثواب کا باعث ہے۔
➋ جو شخص درمیانی عشرہ کا اعتکاف کرے اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے، کیونکہ لیلۃ القدر کا نزول آخری عشرے میں ہوتا ہے۔
➊ رمضان کے درمیانی اور آخری عشرے کا اعتکاف جائز ومسنون اور اجر وثواب کا باعث ہے۔
➋ جو شخص درمیانی عشرہ کا اعتکاف کرے اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے، کیونکہ لیلۃ القدر کا نزول آخری عشرے میں ہوتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2220]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2220 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري