صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رمضان المبارک میں پہلے بیس دنوں کی بجائے صرف آخری عشرے کے اعتکاف پر اکتفا کرنا درست اور جائز ہے
حدیث نمبر: 2221
حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ فَضَالَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ فِيهِ عِشْرِينَ يَوْمًا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان المبارک میں آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ پھر جب وہ سال آیا جس میں آپ نے وفات پائی تو اُس سال بیس دن اعتکاف کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2221]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2044، 4998، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2221، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3329، 7938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2466، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1820، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1769، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8655، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8551»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين عثمان بن عاصم الأسدي ← أبو صالح السمان | ثقة ثبت سنى | |
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر أبو بكر بن عياش الأسدي ← عثمان بن عاصم الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥فضالة بن الفضل التميمي، أبو الفضل فضالة بن الفضل التميمي ← أبو بكر بن عياش الأسدي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2221 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2221
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کے اعتکاف پر اکتفا کرنا بھی مباح ہے اور آخری عشرے کا اعتکاف دیگر عشروں کے اعتکاف سے افضل ہے۔
➋ مستقل اعتکاف کرنے والا اگر پیش آمدہ سفر وغیرہ کی وجہ سے کسی سال اعتکاف نہ کر سکے تو آئندہ سال گزشتہ سال کا اعتکاف اور موجودہ سال کا اعتکاف کر سکتا ہے، یوں اس کا اعتکاف بیس دن ہو گا۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کے اعتکاف پر اکتفا کرنا بھی مباح ہے اور آخری عشرے کا اعتکاف دیگر عشروں کے اعتکاف سے افضل ہے۔
➋ مستقل اعتکاف کرنے والا اگر پیش آمدہ سفر وغیرہ کی وجہ سے کسی سال اعتکاف نہ کر سکے تو آئندہ سال گزشتہ سال کا اعتکاف اور موجودہ سال کا اعتکاف کر سکتا ہے، یوں اس کا اعتکاف بیس دن ہو گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2221]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2221 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي