صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رمضان المبارک کے درمیانے سات کے اعتکاف پر اکتفا کرنے کی رخصت ہے۔ اس سے پہلے اور بعد کے دنوں پر اکتفا کرنے کی رخصت نہیں
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: جَاوَزَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّبْعَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَحَرِّيًا، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ"
حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رمضان المبارک کے درمیان سات دنوں سے آگے بڑھ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہو تو وہ اسے آخری سات دنوں میں تلاش کرلے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2222]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1156، 2015، 6991، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1165، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1141، وابن الجارود فى "المنتقى"، 445، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2182، 2183، 2222، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3675، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1385، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4586»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2222 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2222
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص رمضان کے آخری عشرے کے سات دن یا اس سے کم بھی اعتکاف کرنا چاہے، تو وہ کر سکتا ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص رمضان کے آخری عشرے کے سات دن یا اس سے کم بھی اعتکاف کرنا چاہے، تو وہ کر سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2222]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2222 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي