صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1557. (2) باب البيان أن إيتاء الزكاة من الإيمان؛ إذ الإيمان والإسلام اسمان لمعنى واحد
اس بات کا بیان کہ زکاۃ ایمان کا جُز ہے کیونکہ ایمان اور اسلام ایک ہی (چیز) کے دو نام ہیں
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيَّ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: الإِيمَانُ بِاللَّهِ، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ: شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ پھر مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی۔ اور فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا“ پھر اُنہیں اس کی تفسیر یہ بتائی کہ اس سے مراد یہ گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچامعبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ پھر لمبی حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/زكوٰة كے احكام و مسائل/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 53، 87، 523، 1398، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 17، وابن الجارود فى "المنتقى"، 411، 931، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 307، 1879، 2245، 2246، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 157، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5046، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1599، 1599 م، 2611، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7988، وأحمد فى (مسنده) برقم: 187»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2246 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2246
فوائد:
➊ زکاۃ مال کا وہ حصہ ہے جسے مال دار (صاحب نصاب) شریعت کے حکم کے مطابق اللہ کی راہ میں نکالتا ہے۔ اسے زکاۃ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ مال دار کے مال میں زیادتی، خیر و برکت اور پاکیزگی پیدا کرتا ہے۔
➋ زکاۃ ارکان اسلام میں سے بنیادی رکن اور اہم فرض ہے۔ جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا، لہٰذا ہر ذی شعور اور صاحب مال مسلمان کو اس فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں برتنی چاہیے کیونکہ اس کی عدم ادائیگی سے ایمان میں نقص واقع ہوتا ہے اور دخول جنت کے لیے ارکان اسلام کا اقرار اور ان پر عمل کرنا لازم ہے۔
➊ زکاۃ مال کا وہ حصہ ہے جسے مال دار (صاحب نصاب) شریعت کے حکم کے مطابق اللہ کی راہ میں نکالتا ہے۔ اسے زکاۃ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ مال دار کے مال میں زیادتی، خیر و برکت اور پاکیزگی پیدا کرتا ہے۔
➋ زکاۃ ارکان اسلام میں سے بنیادی رکن اور اہم فرض ہے۔ جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا، لہٰذا ہر ذی شعور اور صاحب مال مسلمان کو اس فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں برتنی چاہیے کیونکہ اس کی عدم ادائیگی سے ایمان میں نقص واقع ہوتا ہے اور دخول جنت کے لیے ارکان اسلام کا اقرار اور ان پر عمل کرنا لازم ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2246]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2246 in Urdu
نصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي