صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1558. (3) باب الأمر بقتال مانع الزكاة؛
مانعین زکوٰۃ کے ساتھ جنگ کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: Q2247
اتِّبَاعًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِقِتَالِ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَتُوبُوا مِنَ الشِّرْكِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَائْتِمَارًا لِأَمْرِهِ جَلَّ وَعَلَا بِتَخْلِيَتِهِمْ بَعْدَ إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ إِلَى قَوْلِهِ: [فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ] [التَّوْبَةِ: 5] ، وَقَالَ: [فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ] [التَّوْبَةِ: 11]
حدیث نمبر: 2247
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلابِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ وَهُوَ ابْنُ دَاوَرِ أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ الْعَرَبَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِنَاقًا مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَيْهِ" ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَأْيَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ شُرِحَ عَلَيْهِ عَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ، جَمِيعُهُمَا لَفْظًا وَاحِدًا، غَيْرَ أَنَّ بُنْدَارًا، قَالَ: لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو عرب (کے کچھ قبائل) مرتد ہوگئے۔ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوگئے تو اُنہوں نے مرتدین کے ساتھ جنگ کا ارادہ کیا) اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے ابوبکر، کیا آپ عربوں کے ساتھ جنگ کرنا چاہتے ہیں؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کرنے کا حُکم دیا گیا ہے جب تک وہ یہ گواہی نہ دیں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم، اگر انہوں نے بکری کا میمنا بھی مجھ سے روکا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے تو میں اُس کی ادائیگی کے لئے ان کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر جب میں نے دیکھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی رائے پر پوری طرح مطمئن ہیں تو میں نے بھی جان لیا کہ حق یہی ہے۔ دونوں راویوں نے ایک ہی جیسے الفاظ میں حدیث بیان کی ہے۔ جب کہ بندار راوی نے یہ الفاظ مختلف بیان کیے ہیں۔ ”لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهَهِ“ (میں ان کے ساتھ اس پر جنگ کروں گا)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التغليظ فى منع الزكاة/حدیث: 2247]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2247، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1431، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3094، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16830، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1883، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 68، والبزار فى (مسنده) برقم: 38، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 6554»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكر | صحابي | |
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر أنس بن مالك الأنصاري ← أبو بكر الصديق | صحابي | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عمران بن داور العمي، أبو العوام عمران بن داور العمي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ورمي برأي الخوارج، صدوق يهم | |
👤←👥عمرو بن عاصم القيسي، أبو عثمان عمرو بن عاصم القيسي ← عمران بن داور العمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← عمرو بن عاصم القيسي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← محمد بن المثنى العنزي | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2247 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2247
فوائد:
➊ اسلام کی بنیادی علامات، توحید و رسالت کا اقرار، نماز کا اہتمام اور زکوٰۃ کی ادائیگی ہے۔
جو شخص ان اعمال کا پابند ہو، اسے قتل کرنا حرام ہے۔
➋ اگر توحید و رسالت کا اقرار کرنے والا نماز پڑھنے یا زکوٰۃ دینے سے انکار کر دے اور اس انکار پر مصر رہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور ایسے منکرین سے قتال کرنا اور انہیں جبراً ان اعمال کا پابند بنانا لازم ہے۔
➌ شرک کا انکار، توحید و رسالت کا اقرار کرنے والا اور نماز و زکوٰۃ کا پابند مسلمان ہے۔
اور کسی ایک رکن کا منکر مسلمان نہیں ہوتا۔
➍ توحید و رسالت کا اقرار اور نماز و زکوٰۃ کا پابند مسلمان ہے، اس سے لڑائی کرنا یا اسے قتل کرنا حرام ہے، لیکن ان ارکان میں تمام ارکان کا منکر یا کسی ایک رکن کا دائمی منکر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور حاکم وقت کا ان کی سرکوبی کے لیے مسلح جد و جہد کرنا اور انہیں زکوٰۃ وغیرہ کی پابندی پر مجبور کرنا لازم ہے۔
نیز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہی آیات و احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف مسلح کارروائی کی اور وفاتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اٹھنے والے بہت بڑے فتنے کی آگ ٹھنڈی کر دی۔
➊ اسلام کی بنیادی علامات، توحید و رسالت کا اقرار، نماز کا اہتمام اور زکوٰۃ کی ادائیگی ہے۔
جو شخص ان اعمال کا پابند ہو، اسے قتل کرنا حرام ہے۔
➋ اگر توحید و رسالت کا اقرار کرنے والا نماز پڑھنے یا زکوٰۃ دینے سے انکار کر دے اور اس انکار پر مصر رہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور ایسے منکرین سے قتال کرنا اور انہیں جبراً ان اعمال کا پابند بنانا لازم ہے۔
➌ شرک کا انکار، توحید و رسالت کا اقرار کرنے والا اور نماز و زکوٰۃ کا پابند مسلمان ہے۔
اور کسی ایک رکن کا منکر مسلمان نہیں ہوتا۔
➍ توحید و رسالت کا اقرار اور نماز و زکوٰۃ کا پابند مسلمان ہے، اس سے لڑائی کرنا یا اسے قتل کرنا حرام ہے، لیکن ان ارکان میں تمام ارکان کا منکر یا کسی ایک رکن کا دائمی منکر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور حاکم وقت کا ان کی سرکوبی کے لیے مسلح جد و جہد کرنا اور انہیں زکوٰۃ وغیرہ کی پابندی پر مجبور کرنا لازم ہے۔
نیز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہی آیات و احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف مسلح کارروائی کی اور وفاتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اٹھنے والے بہت بڑے فتنے کی آگ ٹھنڈی کر دی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2247]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2247 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← أبو بكر الصديق