صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1559. (4) باب الدليل على أن دم المرء وماله إنما يحرمان بعد الشهادة بإقام الصلاة وإيتاء الزكاة إذا وجبت،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ آدمی کا خون اور مال نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے پر شہادتوں کے اقرار کرلینے کے بعد (دوسروں کے لئے) حرام ہوجاتا ہے
حدیث نمبر: Q2248
إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَهُمْ إِخْوَانَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ التَّوْبَةِ مِنَ الشِّرْكِ وَبَعْدَ إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ إِذَا وَجَبَتَا
کیونکہ اللہ تعالی نے مشرکین کو شرک سے توبہ کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کے بعد، جبکہ یہ دونوں واجب ہوچکی ہوں، مسلمانوں کا بھائی بنایا ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التغليظ فى منع الزكاة/حدیث: Q2248]
حدیث نمبر: 2248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، ثُمَّ حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حُکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں حتّیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں، پھر اُن کا خون اور اُن کے مال مجھ پر حرام ہوںگے اور اُن کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التغليظ فى منع الزكاة/حدیث: 2248]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2946، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 21، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1108، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 174، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1432، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3090، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2640، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2606، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 71، 3927، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5221، والدارقطني فى (سننه) برقم: 892، وأحمد فى (مسنده) برقم: 68»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2248 in Urdu
كثير بن عبيد القرشي ← أبو هريرة الدوسي