صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1578. (23) باب الزجر عن إخراج الهرمة والمعيبة والتيس فى الصدقة بغير مشيئة المصدق وإباحة أخذهن إذا شاء المصدق وأراد.
تحصیل دار رضامندی کے بغیر زکوٰۃ میں بوڑھا، عیب دار جانور اور نر بکرا ادا کرنے کی ممانعت کا بیان اور اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا ایسے جانور لینا چاہے تو پھر ان کو زکوٰۃ میں ادا کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 2273
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى , وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى , قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، فَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , وَقَالَ: " وَلا تَخْرُجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلا ذَاتُ عَوَارٍ، وَلا تَيْسٌ، إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو انہوں نے مجھے بحرین کا عامل بنا کر بھیجتے وقت یہ تحریر لکھ کر دی ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ یہ زکوٰۃ کے فرائض ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان احکام کا حُکم دیا ہے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا کہ ”زکوٰۃ میں بوڑھا جانور، عیب دار اور نر بکرا ادا نہیں کیا جائے گا الاّ یہ کہ وصول کنندہ یہ جانور وصول کرنا چاہے (تو کرسکتا ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم/حدیث: 2273]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1448، 1450، 1451، وابن الجارود فى "المنتقى"، 377، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2261، 2273، 2279، 2281، 2296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3266، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1445، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2446، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1567، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1800، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7346، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى (مسنده) برقم: 73»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2273 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2273
فوائد:
➊ زکاۃ میں بوڑھا اور عیب والا جانور نہیں لیا جائے گا اور مالک کی مرضی کے بغیر صدقہ نہیں لیا جائے گا۔ کیونکہ اس کی مرضی کے بغیر صدقہ لینے میں ضرر ہے۔ [فتح الباري: 5/66]
➋ اس زریں اصول کے تحت صدقہ لینے اور دینے والے دونوں فریق نقصان دینے اور نقصان اٹھانے سے محفوظ رہیں گے۔
➊ زکاۃ میں بوڑھا اور عیب والا جانور نہیں لیا جائے گا اور مالک کی مرضی کے بغیر صدقہ نہیں لیا جائے گا۔ کیونکہ اس کی مرضی کے بغیر صدقہ لینے میں ضرر ہے۔ [فتح الباري: 5/66]
➋ اس زریں اصول کے تحت صدقہ لینے اور دینے والے دونوں فریق نقصان دینے اور نقصان اٹھانے سے محفوظ رہیں گے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2273]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2273 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← أبو بكر الصديق