صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1584. (29) باب أخذ الغنم والدراهم فيما بين أسنان الإبل التى يجب فى الصدقة إذا لم يوجد السن الواجبة فى الإبل،
اونٹوں کی زکوٰۃ میں جب مطلوبہ عمر کا اونٹ موجود نہ ہو تو عمر کی کمی بیشی میں بکریاں اور درہم وصول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: Q2281
وَالْبَيَانِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ بَيْنَ السِّنِّيْنِ قَدْرُ قِيمَةِ مَا بَيْنَهُمَا. وَهَذَا الْقَوْلُ إِغْفَالٌ مِنْ قَائِلِهِ، أَوْ هُوَ خِلَافُ سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكُلُّ قَوْلٍ خِلَافَ سُنَّتِهِ فَمَرْدُودٌ غَيْرُ مَقْبُولٍ
حدیث نمبر: 2281
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: " مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِذَا اسْتَيْسَرَتَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا" قَالَ بُنْدَارٌ:" وَيَجْعَلُ مَكَانَهَا شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ، وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيُعْطِيهِ مَعَهَا الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ مَخَاضٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ، وَيُعْطَى مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا، وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ، وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ تحریر لکھوائی، ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ یہ زکوٰۃ کے وہ فرض احکام ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کا حُکم دیا ہے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ”جس شخص کی زکوٰۃ جذعہ (چار سالہ اونٹ) ہو اور اس کے پاس جذعہ نہ ہو اور اس کے پاس حقہ ہو (تین سالہ اونٹ) تو اس شخص سے یہ تین سالہ اونٹ قبول کرلیا جائے اور ساتھ دو بکریاں لے لی جائیں اگر وہ میسر ہوں، وگرنہ بیس درہم وصول کرلیے جائیں۔ جناب بندار کی روایت ہے کہ ”اس کمی کی جگہ دو بکریاں لی جائیںگی۔“ اور جس کی زکوٰۃ ایک حقہ ہو اور اس کے پاس حقہ ہو بلکہ جذعہ موجود ہو تواس سے جذعہ لے لیا جائیگا اور تحصیلدار اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے دیگا اور جس شخص کی زکوٰۃ حقہ (تین سالہ اونٹ) ہو اور اس کے پاس بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) ہو تو اس سے دو سالہ اونٹنی قبول کرلی جائیگی اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کریگا اور جس شخص کی زکوٰۃ بنت لبون ہو اور اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو اس سے حقہ لیکر تحصیلدار اُسے بیس درہم یا دوبکریاں ادا کر دیگا اور جس شخص کی زکوٰۃ ایک بنت لبون ہو مگر وہ اس کے پاس موجود نہ ہو اور اس کے پاس بنت مخاض (ایک سالہ اونٹنی) ہو تو اس سے یہی قبول کی جائیگی اور وہ اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں دیگا اور جس شخص کی زکوٰۃ بنت مخاض (ایک سالہ اونٹنی) ہو لیکن اس کے پاس یہ موجود نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) ہو تو اس سے یہی قبول کرلی جائیگی اور تحصیلدار اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کریگا اور جس شخص کے پاس بنت مخاض (ایک سالہ اونٹنی) نہ ہو اور اسکے پاس ابن لبون (دو سالہ اونٹ) موجود ہو تو اس سے وہ قبول کرلیا جائیگا اور ساتھ کوئی چیز ادا نہیں کی جائیگی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم/حدیث: 2281]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1448، 1450، 1451، وابن الجارود فى "المنتقى"، 377، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2261، 2273، 2279، 2281، 2296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3266، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1445، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2446، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1567، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1800، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7346، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى (مسنده) برقم: 73»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2281 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2281
فوائد:
زکوٰۃ کی وصولی کے وقت اگر زکوٰۃ کا مخصوص جانور میسر نہ ہو، تو اس سے کم عمر کا جانور لے کر اس معین جانور کی قیمت کو پورا کرنے کے لیے اس کے ساتھ بکریاں یا اتنی رقم لی جا سکتی ہے۔ یا معین جانور سے بڑا جانور لے کر اس سے زائد قیمت کی بکریاں یا رقم مالک کو لوٹائی جا سکتی ہے۔ یہ طریقہ جائز و مسنون ہے۔
زکوٰۃ کی وصولی کے وقت اگر زکوٰۃ کا مخصوص جانور میسر نہ ہو، تو اس سے کم عمر کا جانور لے کر اس معین جانور کی قیمت کو پورا کرنے کے لیے اس کے ساتھ بکریاں یا اتنی رقم لی جا سکتی ہے۔ یا معین جانور سے بڑا جانور لے کر اس سے زائد قیمت کی بکریاں یا رقم مالک کو لوٹائی جا سکتی ہے۔ یہ طریقہ جائز و مسنون ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2281]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2281 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← أبو بكر الصديق