صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1594. (39) بَابُ ذِكْرِ مَبْلَغِ الزَّكَاةِ فِي الْوَرِقِ إِذَا بَلَغَ خَمْسَ أَوَاقٍ
جب چاندی پانچ اوقیہ ہوجائے تو اس میں زکوٰۃ کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ حِينَ اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ"، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ، وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: " وَفِي الرِّقَّةِ رُبْعُ الْعُشْرِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةً، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ، إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا" ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةً
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقررہوئے تو انہوں نے میرے لئے یہ تحریر لکھوائی، ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ یہ زکوٰۃ کے وہ فرائض ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیے ہیں اور جن کا حُکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا ہے۔“ پھر راویوں نے مکمّل حدیث بیان کی اور یہ الفاظ روایت کیے ”چاندی میں چالیسواں حصّہ زکوٰۃ واجب ہے لیکن اگر صرف ایک سونوے درہم ہوں تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے الاّ یہ کہ چاندی کا مالک اپنی خوشی سے کچھ ادا کردے۔ جناب ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ ”اگر مال صرف ایک سونوے درہم ہوں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الورق/حدیث: 2296]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1448، 1450، 1451، وابن الجارود فى "المنتقى"، 377، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2261، 2273، 2279، 2281، 2296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3266، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1445، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2446، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1567، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1800، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7346، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى (مسنده) برقم: 73»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2296 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2296
فوائد:
➊ چاندی کا نصابِ زکوٰۃ پانچ اوقیہ ہے، اور حدیث و اجماع کی رو سے پانچ اوقیہ دو سو درہم بنتے ہیں۔
➋ دو سو درہم سے کم مالیت کی چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے، اور دو سو درہم چاندی کی زکوٰۃ پانچ درہم ہے، پھر ہر چالیس درہم پر ایک درہم زکوٰۃ ہوگی۔
➊ چاندی کا نصابِ زکوٰۃ پانچ اوقیہ ہے، اور حدیث و اجماع کی رو سے پانچ اوقیہ دو سو درہم بنتے ہیں۔
➋ دو سو درہم سے کم مالیت کی چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے، اور دو سو درہم چاندی کی زکوٰۃ پانچ درہم ہے، پھر ہر چالیس درہم پر ایک درہم زکوٰۃ ہوگی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2296]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2296 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← أبو بكر الصديق