صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1603. (48) باب الزجر عن إخراج الحبوب والتمور الرديئة فى الصدقة،
زکوٰۃ کی ادائیگی میں خراب اناج اور ردی کھجوریں ادا کرنے پر وعید کا بیان
حدیث نمبر: 2314
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ حَتَّى جِئْنَا وَادِي الْقُرَى، فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" اخْرُصُوا"، فَخَرَصَ الْقَوْمُ، وَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ أَوْسُقٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَرْأَةِ: " أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا وَادِي الْقُرَى، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ:" كَمْ جَاءَ حَدِيقَتُكِ؟" قَالتَ: عَشَرَةُ أَوْسُقٍ، خَرْصُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک والے سال (جنگ تبوک کے لئے) نکلے حتّیٰ کہ ہم وادی القریٰ میں پہنچے تو ہم نے ایک عورت کو اس کے باغ میں کھڑے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے کہا: ”(اس باغ میں موجود پھل کا) اندزاہ لگاؤ۔“ تو صحابہ کرام نے اپنا اپنا اندازہ بیان کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تخمینہ دس وسق لگایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو حُکم دیا کہ اس باغ سے جتنی کھجوریں حاصل ہوں اُنہیں شمار کرکے رکھنا حتّیٰ کہ میں تمہارے پاس لوٹ کرآؤں۔ ان شاء اللہ۔“ (تومجھے بتانا) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف تشریف لے گئے پھر آپ واپس آئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ واپس پلٹے۔ حتّیٰ کہ ہم وادی القریٰ میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا: ”تمہارے باغ سے کتنی کھجوریں حاصل ہوئیں؟“ اُس نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تخمینے کے مطابق دس وسق کھجوریں حاصل ہوئی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2314]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1482 م، 1872، 3161، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1392، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1188، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2314، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4503، 6501، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3079، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7530، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24091»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2314 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2314
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجور اور انگور وغیرہ کا خشک کھجور اور منقیٰ سے تخمینہ لگانا جائز ہے اور یہ مستحب عمل ہے۔
➋ کھجور اور انگور وغیرہ جیسے کچے پھل کا تخمینہ کم از کم دس اوسق ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہو گی کیونکہ خشک ہونے کے بعد اس کا وزن کم ہو جائے گا۔ اور زکوٰۃ کی فرضیت کے لیے کھجور اور انگور کا کم از کم پانچ اوسق ہونا ضروری ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجور اور انگور وغیرہ کا خشک کھجور اور منقیٰ سے تخمینہ لگانا جائز ہے اور یہ مستحب عمل ہے۔
➋ کھجور اور انگور وغیرہ جیسے کچے پھل کا تخمینہ کم از کم دس اوسق ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہو گی کیونکہ خشک ہونے کے بعد اس کا وزن کم ہو جائے گا۔ اور زکوٰۃ کی فرضیت کے لیے کھجور اور انگور کا کم از کم پانچ اوسق ہونا ضروری ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2314]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2314 in Urdu
العباس بن سهل الأنصاري ← عبد الرحمن بن سعد الساعدي