🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1636. ‏(‏81‏)‏ باب الرخصة فى إعطاء من له ضيعة من الصدقة، إذا أصابت غلته جائحة أذهبت غلته قدر ما يسد فاقته
جس شخص کی زرعی زمین ہو اور آفت آنے سے اس کا غلہ برباد ہو جائے تو اسے زکوٰۃ میں سے بقدر ضرورت و حاجت دینا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2361
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ رِيَابٍ ، حَدَّثَنَا كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ الْهِلالِيِّ ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ:" أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ، حَتَّى تَأْتِيَنِي الصَّدَقَةُ فَآمُرُ لَكَ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَحِلُّ، إِلا لأَحَدِ ثَلاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ , أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، فَحَلَّتْ لَهُ الصَّدَقَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ يَا قَبِيصَةُ، سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا"
سیدنا قبیصہ بن مخارق الہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک تاوان اپنے ذمے لیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس میں تعاون کے لئے حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قبیصہ، زکوٰۃ کا مال آنے تک ہمارے پاس ٹھہرے رہو۔ (جب مال آئے گا) تو میں تمہارے ساتھ تعاون کا حُکم دے دوںگا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک زکوٰۃ کا مال صرف تین قسم کے افراد کے لئے حلال ہے۔ ایک وہ شخص جو کوئی تاوان اپنے ذمے لے لے تو اُس کے لئے تعاون کا سوال کرنا حلال ہوجاتا ہے حتّیٰ کہ بقدر گزارہ مال حاصل کرلے۔ دوسرا وہ شخص جسے کوئی آفت پہنچے جس سے اس کا سارا مال ضائع ہوجائے تو اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے حتّیٰ کہ وہ بقدر ضرورت مال پالے۔ تیسرا وہ شخص جسے فقر و فاقہ پہنچ جائے تو اس کے لئے زکوٰۃ کا مال حلال ہے حتّیٰ کہ گزارے کے لئے مال حاصل کرلے۔ اس کے علاوہ مانگنا اے قبیصہ حرام ہے، اور مانگنے والا حرام کھاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2361]
تخریج الحدیث:

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قبيصة بن المخارق الهلالي، أبو بشرصحابي
👤←👥كنانة بن نعيم العدوي، أبو بكر
Newكنانة بن نعيم العدوي ← قبيصة بن المخارق الهلالي
ثقة
👤←👥هارون بن رئاب التميمي، أبو الحسن، أبو بكر
Newهارون بن رئاب التميمي ← كنانة بن نعيم العدوي
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← هارون بن رئاب التميمي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة