صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1670. (115) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ زَكَاةَ رَمَضَانَ إِنَّمَا تَجِبُ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ صدقہ فطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع کے مطابق واجب ہے
حدیث نمبر: Q2401
لَا بِالصَّاعِ الَّذِي أُحْدِثَ بَعْدُ، إِذِ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ كَانَ صَاعَهُ.
حدیث نمبر: 2401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلامَةُ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أُمَّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّهُمْ كَانُوا يُخْرِجُونَ زَكَاةَ الْفِطْرِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُدِّ الَّذِي يَقْتَاتُ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، أَوِ الصَّاعِ الَّذِي يَقْتَاتُونَ بِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ كُلُّهُمْ"
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ صحابہ کرام عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں اس مد کے ساتھ صدقہ فطر ادا کرتے تھے جس کے ساتھ اہل مدینہ غذائی اجناس کا ماپ کرتے تھے۔ یا اس صاع کے ساتھ ادائیگی کرتے تھے جس کے ساتھ تمام اہل مدینہ غذائی اجناس کا لین دین کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: 2401]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2401، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1504، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7809، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27578»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2401 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2401
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ فطرانہ میں مدنی صاع معتبر ہے۔
عہد رسالت اور عہد صحابہ میں یہی صاع مستعمل تھا، لہٰذا صدقہ فطر کی پیمائش میں یہی صاع استعمال کیا جائے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ فطرانہ میں مدنی صاع معتبر ہے۔
عہد رسالت اور عہد صحابہ میں یہی صاع مستعمل تھا، لہٰذا صدقہ فطر کی پیمائش میں یہی صاع استعمال کیا جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2401]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2401 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← أسماء بنت أبي بكر القرشية