صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1672. (117) باب إيجاب صدقة الفطر على الصغير خلاف قول من زعم أنها ساقطة عن من سقط عنه فرض الصلاة.
چھوٹے بچّے پر بھی صدقہ فطر واجب ہے۔ اس شخص کے قول کے برخلاف جو کہتا ہے کہ جس پر نماز فرض نہیں اس پر صدقہ فطر بھی فرض نہیں
حدیث نمبر: 2403
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى . ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ، وَقَالَ نَصْرٌ: صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ، صَاعَ تَمْرٍ أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ" ، هَذَا حَدِيثُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: عَنْ نَافِعٍ، وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ نَحْوَ حَدِيثِ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، وَزَادَ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطرفرض کیا ہے جناب نصر کی روایت میں صدقہ رمضان کے الفاظ ہیں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو ہر چھوٹے بچّے، بڑے شخص، آزاد اور غلام پر فرض ہے۔ یہ روایت جناب نصر بن علی کی ہے لیکن انہوں نے اَخْبَرْنِیْ کی بجائے عَن کے ساتھ روایت کیا ہے اور جناب الصنعانی کی روایت میں، مرد اور عورت کے الفاظ کا اضافہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: 2403]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1503، 1504، 1507، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 984، ومالك فى (الموطأ) برقم: 989، وابن الجارود فى "المنتقى"، 392، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2392، 2393، 2395، 2397، 2398، 2399، 2400، 2403، 2404، 2405، 2406، 2409، 2411، 2416، 2421، 2422، 2423، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3299، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2599، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1494، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 675، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1825، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7764، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2069، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4572»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2403 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2403
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ بچوں پر بھی صدقہ فطر واجب ہے۔
➋ اگر والدین زندہ ہیں تو وہ بچوں کا فطرانہ ادا کریں گے۔
➌ اگر والدین فوت ہو چکے ہیں تو یتیم کے مال سے اس کا فطرانہ ادا کیا جائے گا اگر وہ مالدار ہو، ورنہ اس کے سرپرست اس کی طرف سے اس کا فطرانہ ادا کریں گے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ بچوں پر بھی صدقہ فطر واجب ہے۔
➋ اگر والدین زندہ ہیں تو وہ بچوں کا فطرانہ ادا کریں گے۔
➌ اگر والدین فوت ہو چکے ہیں تو یتیم کے مال سے اس کا فطرانہ ادا کیا جائے گا اگر وہ مالدار ہو، ورنہ اس کے سرپرست اس کی طرف سے اس کا فطرانہ ادا کریں گے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2403]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2403 in Urdu
معتمر بن سليمان التيمي ← عبيد الله بن عمر العدوي