صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1692. (137) بَابُ ذِكْرِ نَمَاءِ الْمَالِ بِالصَّدَقَةِ [247- ب] مِنْهُ،
صدقہ کرنے سے مال کے بڑھنے اور اللہ تعالی کا مزید عطا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2438
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا يَعْفُو إِلا عِزًّا، وَمَا تَوَاضُعَ أَحَدٌ لِلَّهِ، إِلا رَفَعَهُ اللَّهُ" ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى , قَالَ بُنْدَارٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى: سَمِعْتُ الْعَلاءَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالا، وَلا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مَظْلِمَةٍ، إِلا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا۔ اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے بندے کی عزت میں اضافہ ہی فرماتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے لئے عاجزی و انکساری اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بلند مقام و مرتبہ عطا کردیتا ہے۔“ جناب بندار اور ابوموسیٰ کی روایت میں ہے کہ اور جو شخص کوئی ظلم معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسکی عزت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2438]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2588، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2438، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3248، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2029، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7911، 21152، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7326»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2438 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2438
فوائد:
صدقہ و خیرات سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ علماء نے اس کی دو توجیہات بیان کی ہیں۔
➊ صدقہ شدہ مال میں برکت واقع ہوتی ہے۔ اس سے آفات دور ہو جاتی ہیں اور مخفی برکت سے اس مال میں واقع ہونے والی کمی کا تدارک ہو جاتا ہے۔
➋ صدقہ کرنے سے اگرچہ بظاہر مال میں نقص واقع ہوتا ہے، لیکن آخرت میں حاصل ہونے والے ثواب سے یہ کمی دور ہو جائے گی اور آخرت میں کئی گنا ثواب بڑھا دیا جائے گا۔ [شرح النووي: 399/8]
صدقہ و خیرات سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ علماء نے اس کی دو توجیہات بیان کی ہیں۔
➊ صدقہ شدہ مال میں برکت واقع ہوتی ہے۔ اس سے آفات دور ہو جاتی ہیں اور مخفی برکت سے اس مال میں واقع ہونے والی کمی کا تدارک ہو جاتا ہے۔
➋ صدقہ کرنے سے اگرچہ بظاہر مال میں نقص واقع ہوتا ہے، لیکن آخرت میں حاصل ہونے والے ثواب سے یہ کمی دور ہو جائے گی اور آخرت میں کئی گنا ثواب بڑھا دیا جائے گا۔ [شرح النووي: 399/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2438]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2438 in Urdu
شعبة بن الحجاج العتكي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي