صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1705. (150) باب فضل صدقة الصحيح الشحيح الخائف من الفقر، المؤمل طول العمر على صدقة المريض الخائف نزول المنية به
ایسا مریض جسے زندگی کی امید نہ ہو بلکہ موت سے خوفزدہ ہو اس کے صدقہ پر صحت مند، مال کی حرص رکھنے والے، فاصلہ محتاجی سے ڈرنے والے اور طویل عمر کی امید رکھنے والے شخص کے صدقہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2454
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرَعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَلا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومُ، قُلْتُ لِفُلانٍ كَذَا وَلِفُلانٍ كَذَا، أَلا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ أَلا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي يَقُولُ: إِنَّ الْوَقْتَ إِذَا قَرُبَ فَجَائِزٌ أَنْ يُقَالَ قَدْ كَانَ الْوَقْتُ , وَدَخَلَ الْوَقْتُ إِذَا قَرُبَ، وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ، وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ، لأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: أَلا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ أَيْ قَدْ قَرُبَ نُزُولُ الْمَنِيَّةِ بِالْمَرْءِ إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومُ فَيَصِيرُ الْمَالُ لِغَيْرِهِ، لا أَنَّ الْمَالَ يَصِيرُ لِغَيْرِهِ قَبْلَ قَبْضِ النَّفْسِ، وَمِنْ هَذَا الْجِنْسِ قَوْلُ الصِّدِّيقِ: وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمُ هُوَ وَارِثٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کونسا صدقہ اجر و ثواب میں عظیم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا اس حال میں صدقہ کرنا کہ تم صحت مند ہو۔ مال کا طمع رکھتے ہو، فقر و فاقہ کا تمہیں ڈر ہو اور تمہیں زندگی کی امید۔ ہو اس وقت کا انتظار نہ کرو حتّیٰ کہ جب جان حلق میں پہنچ جائے تو تم کہو کہ فلاں کے لئے اتنا مال ہے۔ فلاں شخص کو اتنا مال دیدو، وہ تواب دوسروں کا ہوہی چکا ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں یہ الفاظ ”کہ وہ تو اب دوسروں کا ہو چکا ہے۔“ یہ مسئلہ اسی قسم کا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وقت قریب ہو جائے تو یہ کہنا جائز ہے کہ وقت ہوچکا ہے اور ”دَخَلَ اْلوَقْتُ“ (وقت ہوگیا) اس وقت کہتے ہیں جب وقت قریب ہوجائے اور یہ مال دوسروں کا ہوچکا ہے اگرچہ ابھی وقت نہیں ہوا۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ یہ مال اب دوسروں کا ہوچکا ہے۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اب اس شخص کی موت قریب آچکی ہے کیونکہ جان حلق میں اٹکی ہوئی ہے تو یہ مال اب دوسروں کا ہو جائیگا۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کی جان نکلنے سے پہلے ہی یہ مال دوسروں کا ہو جائیگا۔ اسی قسم سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہے کہ بلا شبہ فلاں شخص اس کا وارث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2454]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1419، 2748، 5971، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1032، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2454، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 433، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2541، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2865، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2706، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7926، 15856، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7280»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2454 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2454
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ صحت اور زندگی کے آثار کی بقا میں صدقہ و خیرات کرنا افضل ہے۔
➋ کیونکہ حالت صحت و تندرستی میں انسان مال کا حریص ہوتا ہے اور حرص و طمع کی صورت میں صدقہ کرنے والے کا خلوص و للہیت ظاہر ہوتی ہے۔
➌ بیماری اور زندگی سے مایوسی کے وقت صدقہ و خیرات کا اجر کم تر ہے اور ایسا شخص اگر صدقہ و خیرات میں بے اعتدالی کرے تو اس کی اصلاح کر دی جائے گی۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ صحت اور زندگی کے آثار کی بقا میں صدقہ و خیرات کرنا افضل ہے۔
➋ کیونکہ حالت صحت و تندرستی میں انسان مال کا حریص ہوتا ہے اور حرص و طمع کی صورت میں صدقہ کرنے والے کا خلوص و للہیت ظاہر ہوتی ہے۔
➌ بیماری اور زندگی سے مایوسی کے وقت صدقہ و خیرات کا اجر کم تر ہے اور ایسا شخص اگر صدقہ و خیرات میں بے اعتدالی کرے تو اس کی اصلاح کر دی جائے گی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2454]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2454 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي