صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1712. (157) باب ذكر تضعيف صدقة المرأة على زوجها وعلى ما فى حجرها على الصدقة على غيرهم.
عورت دور کے رشتہ داروں کی بجائے اپنے خاوند اور زیر پرورش بچّوں پر صدقہ کرے تو اسے دگنا اجر ملتا ہے
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ" ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ مَعْنًى وَاحِدٍ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسجد میں تھیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت، صدقہ کرو خواہ اپنے زیورات میں سے کرو۔“ پھر ابن نمیر کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2464]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1466، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1000، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2463، 2464، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4248، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8882، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2582، والترمذي فى (جامعه) برقم: 635، 636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1834، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7641، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1958، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16330»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2464 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2464
فوائد:
➊ مالدار عورتیں جن کے مال کا نصاب فرض زکاۃ کو پہنچتا ہو، ان پر زکاۃ کی ادائیگی لازم ہے۔
➋ عورت اپنے فقیر خاوند و مسکین اولاد کو زکاۃ ادا کر سکتی ہے اور اس عمل سے اس کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔
➌ خاوند اور بچوں پر زکاۃ کا مال خرچ کرنا بیوی کے لیے دوہرے اجر وثواب کا باعث ہے، ایک قرابت کا اور دوسرا فریضے کی ادائیگی کا۔ لہذا صاحب نصاب بیوی کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی زکاۃ میں اولاً اپنے شوہر اور بچوں کو شامل کرے۔
➊ مالدار عورتیں جن کے مال کا نصاب فرض زکاۃ کو پہنچتا ہو، ان پر زکاۃ کی ادائیگی لازم ہے۔
➋ عورت اپنے فقیر خاوند و مسکین اولاد کو زکاۃ ادا کر سکتی ہے اور اس عمل سے اس کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔
➌ خاوند اور بچوں پر زکاۃ کا مال خرچ کرنا بیوی کے لیے دوہرے اجر وثواب کا باعث ہے، ایک قرابت کا اور دوسرا فریضے کی ادائیگی کا۔ لہذا صاحب نصاب بیوی کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی زکاۃ میں اولاً اپنے شوہر اور بچوں کو شامل کرے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2464]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2464 in Urdu
عمرو بن الحارث الخزاعي ← زينب بنت عبد الله الثقفية