🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
192. ‏(‏191‏)‏ باب الرخصة فى ترك المرأة نقض ضفائر رأسها فى الغسل من الجنابة‏.‏
عورت کو غسل جنابت میں اپنی سرکی گندھی ہوئی چوٹیاں نہ کھولنے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 247
نا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، نا عَبْدُ الْوَارِثِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْعَنْبَرِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ أَبُو عَمَّارٍ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: نا ابْنُ عُلَيَّةَ وَهُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَأْمُرُ نِسَاءَهُ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ إِذَا اغْتَسَلْنَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَتْ" يَا عَجَبَاهْ، لابْنِ عَمْرٍو هَذَا لَقَدْ كَلَّفَهُنَّ تَعَبًا، أَفَلا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ؟ لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنَ الإِنَاءِ الْوَاحِدِ نَشْرَعُ فِيهِ جَمِيعًا، فَمَا أَزِيدُ عَلَى ثَلاثِ حَفَنَاتٍ" ، أَوْ قَالَ:" ثَلاثِ غَرَفَاتٍ". هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَلَيْسَ فِي خَبَرِ ابْنِ عُلَيَّةَ: نَشْرَعُ فِيهِ جَمِيعًا , وَقَالَ فِيهِ:" فَمَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلاثَ إِفْرَاغَاتٍ"
حضرت عبید بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنی عورتوں کو غسل جنابت کے لئے سر کی چوٹیاں کھولنے کا حکم دیتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے اس حُکم پر تعجب ہے۔ اُنہوں نے تو اُنہیں مشقّت میں ڈال دیا ہے، وہ اُنہیں اپنے سر منڈانے کا حُکم کیوں نہیں دے دیتے، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کیا کر تے تھے،اُس میں سے اکٹھّے (پانی لے کر غسل کرنا) شر وع کرتے تھے۔ تو میں تین لپوں یا (راوی نے) کہا کہ تین چُلّوؤں سے زیادہ (پانی سر پر) نہیں ڈالا کرتی تھی۔ یہ عبدالوارث کی حدیث ہے۔ ابن علیہ کی روایت میں ہم اس سے اکٹھّے شروع کرتے تھے۔ کہ الفاظ نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ میں اپنے سرپر تین مرتبہ سے زیادہ نہیں ڈالا کرتی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل الجنابة/حدیث: 247]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 331، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 247، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 414، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 604، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 874، 957، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24794»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبيد بن عمير الجندعي، أبو عاصم
Newعبيد بن عمير الجندعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← عبيد بن عمير الجندعي
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني
ثقة حجة حافظ
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة
👤←👥الحسين بن حريث الخزاعي، أبو عمار
Newالحسين بن حريث الخزاعي ← يعقوب بن إبراهيم العبدي
ثقة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← الحسين بن حريث الخزاعي
ثقة ثبت
👤←👥عمران بن موسى الليثي، أبو عمرو
Newعمران بن موسى الليثي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 247 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 247
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ دورانِ غسل عورت کا سر کی مینڈیاں کھولنا واجب نہیں۔ [نيل الأوطار: 1/ 268]
➋ شافعیہ اور جمہور علماء کا موقف ہے کہ بالوں کی لٹیں کھولے بغیر تمام بالوں تک پانی پہنچ جائے تو انہیں کھولنا واجب نہیں ہے۔
اور اگر بالوں کی مینڈیاں کھول کر ہی تمام بالوں تک پانی پہنچتا ہو تو مینڈیاں کھولنا واجب ہے، کیونکہ تمام بالوں کو تر کرنا واجب ہے۔
اور حدیثِ ام سلمہ کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ مینڈیاں کھولے بغیر ان کے تمام بالوں تک پانی پہنچ جاتا تھا۔
◈ ابراہیم نخعی سے منقول ہے کہ وہ ہر حال میں مینڈیاں کھولنے کے وجوب کے قائل ہیں۔
◈ اور حسن بصری اور طاؤس سے مروی ہے کہ غسلِ جنابت کے برعکس غسلِ حیض میں مینڈیاں کھولنا واجب ہے۔
اور اگر مرد کی مینڈیاں ہوں تو اس کا حکم عورت کی مینڈ یوں کے مثل ہے۔ [شرح النووي: 4/ 11]
جمہور کا موقف راجح اور زیادہ قرینِ صواب ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 247]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 247 in Urdu