علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
193. (192) باب غسل المرأة من الجنابة، والدليل على أن غسلها كغسل الرجل سواء.
عورت کا غسل جنابت کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ عورت کا غسل مرد کے غسل جیسا ہی ہے
حدیث نمبر: 248
نا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ ، تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْمَحِيضِ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَ:" تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا فَتَطْهُرَ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا" ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الأَنْصَارِ، لَمْ يَمْنَعْهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے متعلق پوچھا۔ پھر راوی نے کچھ حدیث بیان کی (یعنی اس سوال کا جواب بیان کیا) اور اُنہوں نے کہا (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسلِ جنابت کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک عورت پانی لے اور وضو کرے، خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے ملے حتیٰ کہ پانی اس کے سر کی جڑوں میں پہنچ جائے۔ پھر وہ اپنے سر پر پانی بہا لے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بہترین خواتین انصاری خواتین ہیں، دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں حیا اُن کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل الجنابة/حدیث: 248]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 248 in Urdu
صفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق