صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1772. (31) باب استحباب تأمير المسافرين أحدهم على أنفسهم، والبيان أن أحقهم بذلك أكثرهم جمعا للقرآن
مسافروں کا اپنے کسی فرد کو اپنا امیر بنا لینا مستحب ہے اور اس بات کا بیان کہ امارت کا زیادہ حق دار وہ ہے جسے قرآن مجید زیادہ یاد ہو
حدیث نمبر: 2540
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَهُمْ نَفَرٌ فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟"، فَاسْتَقْرَأَهُمْ كَذَلِكَ حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ هُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، قَالَ:" مَاذَا مَعَكَ يَا فُلانُ؟ قَالَ: مَعِيَ كَذَا وَكَذَا، وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ، قَالَ: اذْهَبْ، فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جو کچھ افراد پر مشتمل تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں بلایا اور پوچھا: ”تمہیں کتنا قرآن مجید یاد ہے؟“ تو آپ نے اُن سے باری باری قرآن پڑھوا کر سُنا۔ حتّیٰ کہ ان میں سے ایک نوجوان کی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے نوجوان تمہیں کتنا قرآن مجید حفظ ہے؟“ اُس نے جواب دیا کہ مجھے اتنا اتنا قرآن یاد ہے اور سورة البقره بھی یاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تم ان کے امیر ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2540]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عطاء مولى أبي أحمد بن جحش ← أبو هريرة الدوسي